’ڈی مورلائیزڈ فوج‘ سے خطرہ کب محسوس ہوا؟

تصویر کے کاپی رائٹ 1
Image caption اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد بظاہر فوج ’ڈی مورلائیزڈ‘ لگ رہی تھی۔

امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی حکومتی طلبی پر اسلام آباد پہنچ چکے ہیں اور وہ متعلقہ حکام بالا سے اپنی ملاقات میں ’متنازعہ منصور مولن میمو‘ کے بارے میں اپنی وضاحت پیش کریں گے۔

سرکاری طور پر حسین حقانی کی مصروفیات کے بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا جا رہا اور گزشتہ شب صدر آصف علی زرداری سے ان کی ملاقات کے بارے میں شایع ہونے والی خبروں کی تصدیق یا تردید بھی سامنے نہیں آئی۔

البتہ پیر کو حسین حقانی کی اہلیہ فرح ناز اسفھانی نے صحافیوں کو بتایا کہ آج صدر اور وزیراعظم سے ان کے شوہر کی ملاقات ہوگی جبکہ بعد فوجی حکام سے بھی ملیں گے۔ انہوں نے حسین حقانی کے زیر استعمال لیپ ٹاپ اور بلیک بیری فون فورنزک تحقیقات کے لیے دینے کی پیشکش بھی کی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں محمد نواز شریف نے گزشتہ روز فیصل آباد کے جلسے میں مطالبہ کیا ہے کہ اگر حکومت نے دو روز میں تحقیقات کا اعلان نہیں کیا تو وہ سپریم کورٹ سے بذات خود رجوع کریں گے اور تحقیقات کا مطالبہ کریں گے۔ ان کے بقول اگر حکومت تحقیقاتی کمیٹی بناتی ہے تو وہ زیادہ سے زیادہ نو روز میں رپورٹ پیش کرے۔

’متنازعہ منصور مولن میمو‘ کے بارے میں اب تک مقامی اور عالمی ذرائع ابلاغ میں بہت کچھ لکھا جاچکا ہے اور یہ مراسلہ بھیجنے والے منصور اعجاز سے منسوب بیانات جن کی تاحال کہیں تردید پڑھنے کو نہیں ملی، ان کی وجہ سے یہ معاملہ بہت زیادہ متنازعہ بن گیا ہے اور اس نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے۔

ابھی تو اس بات کا تعین ہونا باقی ہے کہ یہ مراسلہ حسین حقانی کی ایماء پر لکھا گیا یا کہ انہیں پھنسانے کے لیے ان کے مخالفین کا یہ کارنامہ ہے۔ لیکن اس سے پہلے ہی گزشتہ جمعہ کو قومی اسمبلی میں اس نکتے پر بات چیت کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے اراکین نے اس اقدام کو پاکستان کے خلاف بغاوت سے تعبیر کرتے ہوئے حسین حقانی اور صدر آصف علی زرداری پر آئین کی شق چھ کے مطابق بغاوت کا مقدمہ درج کرنے کے مطالبات بھی کردیے۔

لیکن پیر کی شام گئے قومی اسمبلی کے اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے کسی رکن نے اس بارے میں کوئی بات نہیں کی۔ اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان نے ملک میں کھاد کی کمی کا معاملہ تو اٹھایا لیکن اس بارے میں محطاط نظر آئے۔

متنازعہ مراسلے کا بغور جائزہ لیں تو بہت سے سوالات ذہن میں آتے ہیں۔ مثال کے طور پر دو مئی کو ایبٹ آباد میں امریکی فوج کے ہاتھوں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد تو پاکستانی فوج کو سیاسی، عوامی، صحافتی اور مذہبی حلقوں سے وسیع پیمانے پر تنقید کا سامنہ تھا اور بظاہر فوج ’ڈی مورلائیزڈ‘ لگ رہی تھی اور ان کے لیے اپنا دفاع کرنا مشکل تھا۔ کیا ایسے میں واقعی فوج اقتدار پر قبضہ کرنے کا سوچ سکتی ہے یا کوئی منصوبہ بنا سکتی؟

ان دنوں میں فوج پر پارلیمان کے اندر، باہر اور ٹی وی ٹاک شوز میں سب سے زیادہ تنقید کرنے میں مسلم لیگ (ن) کے دوست ہی پیش پیش تھے اور پیپلز پارٹی والے ’آئی ایس آئی‘ سمیت ہر فورم پر فوج کا دفاع کرتے نہیں تھکتے تھے۔ ایسے ماحول میں حکومت کو کیسے ڈر محسوس ہوسکتا ہے کہ فوج ان کا تختہ الٹنے والی ہے اور انہیں امریکی کمانڈر مائیک مولن سے مشکوک انداز میں مدد مانگنی چاہئیے؟

باالفرض اگر ایک لمحے کے لیے یہ مان بھی لیں کہ یہ متنازعہ مراسلہ مائیک مولن کو ایمرجنسی میں بھیجا بھی گیا، تو بقول مائیک مولن کے ترجمان کہ اس مشکوک مراسلے کو انہوں نے کوئی اہمیت نہیں دی۔ کیوں؟

امریکہ اور پاکستان کا ’ہاٹ لائن‘ رابطہ بحال ہے اور اس کا تذکرہ یا تصدیق کیوں نہیں ہوئی؟ منصور اعجاز خود یہ مراسلہ منظر عام پر لانے پر کیوں مجبور ہوئے؟ اس کی تفصیلات اور تشہیر ایک مخصوص میڈیا گروپ میں کیوں ہوئی؟

اگر یہ درست ہے کہ فوج حکومت کا تختہ الٹنے والی تھی تو کیا اس بات کی تحقیقات نہیں ہونی چاہیے کہ ایسا تھا بھی یا نہیں؟

کیونکہ جب ایبٹ آباد سانحہ ہوا تو سب نے یہ نکتہ تو اٹھایا کہ امریکہ نے پاکستان کی سلامتی کی خلاف ورزی کیوں کی؟ لیکن یہ سوال کیوں دفن ہوگیا کہ دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد پاکستان میں کیسے آیا؟ کس نے انہیں پناہ دی؟ انہیں ڈائیلاسز کی سہولت کس نے فراہم کی؟

مختلف ذرائع ابلاغ میں منصور اعجاز صاحب سے منسوب جو بیانات شائع ہوئے ان میں پہلے تو کہا گیا کہ صدر آصف علی زرداری کی ایما پر حسین حقانی کی منظوری سے انہوں نے یہ مراسلہ مائیک مولن کو بھیجا۔ لیکن بعد میں یہ بات بھی آئی کہ نہیں جی حسین حقانی نے ڈرافٹ نہیں دیا بلکہ ان سے ہونے والی گفتگو کی بنا پر منصور اعجاز صاحب نے خود ڈرافٹ تیار کیا۔ پھر منصور اعجاز صاحب سے منسوب تازہ بیان یہ شائع ہوا ہے کہ اس مراسلے کے بارے میں صدر آصف علی زرداری کو تو علم ہی نہیں ہے۔

ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ منصور اعجاز صاحب کے کس بیان پر بھروسہ کریں؟

بہتر یہی ہوگا کہ حکومت اور اپوزیشن پارلیمان میں مشترکہ طور پر طے کریں کہ اس کی تحقیقات کس سے کرانی چاہیے اور اس معاملے کی تہہ تک پہنچا جائے کہ اصل حقائق کیا ہیں؟ اس کا فائدہ حاصل کرنے والے فریق کون ہیں؟ یہ فوج کے خلاف سازش ہے، حسین حقانی کے یا کہ جمہوریت کے خلاف؟ اور جو بھی اس کے ذمہ دار ہوں انہیں عبرتناک سزا ملنی چاہیے۔

اسی بارے میں