خالد شمیم کی ممکنہ حوالگی عدالت میں چیلنج

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ڈاکٹر عمران فاروق کو لندن میں قتل کیا گیا تھا

پاکستان میں سندھ ہائی کورٹ نے متحدہ قومی موومنٹ کے سابق کنوینر ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے شبہ میں مبینہ طور پر گرفتار کراچی واٹر بورڈ کے ملازم خالد شمیم کو کسی غیر ملکی ادارے کے حوالے کرنے کے بارے میں وفاقی حکومت سے تیس نومبر کو جواب طلب کرلیا ہے۔

چیف جسٹس مشیر عالم اور جسٹس امام بخش پر مشتمل ڈویزن بینچ کے روبرو منگل کو خالد شمیم کی بیگم بینا خالد کی درخواست کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے حکومت کو ہدایت کی کہ خالد شمیم کی ممکنہ طور پر بیرون ملک منتقلی کے بارے میں ائرپورٹ پر نصب سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج سے بھی مدد حاصل کی جائے۔

عدالت کو بینا خالد کے وکیل نے بتایا کہ سکاٹ لینڈ یارڈ نے پچھلے دنوں ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل میں دو افراد کی گرفتاری کا بیان دیا تھا مگر اس کے باوجود پاکستانی حکام نے اس بارے میں کوئی جواب نہیں دیا، جس پر عدالت نے ناراضگی کا اظہار کیا۔

کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل نے بتایا کہ عدالت نے سرکاری وکیل کو ہدایت کی ہے کہ وہ اسکاٹ لینڈ یارڈ کے بیان کے حقائق سے عدالت کو آگاہ کریں۔

یاد رہے کہ بینا خالد نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ رواں سال چھ جنوری کو وہ اپنے شوہر کے ساتھ بچوں کو اسکول چھوڑنے جارہی تھیں کہ ملیر ہالٹ کے قریب ان کے شوہر اے ٹی ایم مشین سے رقم نکلوانے کے لیے اترے۔

’اس دوران سفید گاڑیوں میں جن پر سبز رنگ کی نمبر پلیٹ لگی ہوئی تھیں سوار لوگ ان کے شوہر کو زبردستی لے گئے بعد میں نامعلوم شخص کا ٹیلیفون آیا جس نے بتایا کہ انہیں جلد چھوڑ دیا جائے گا لیکن آج تک انہیں رہا نہیں کیا گیا ہے۔‘

بینا خالد نے اپنی درخواست کے ساتھ اخبارات کے تراشے بھی بطور ثبوت پیش کیے جن میں کہا گیا ہے کہ کراچی ہوائی اڈے سے ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کیس میں دو افراد کو گرفتار کیا گیا، جنہیں بعد میں اسلام آباد منتقل کردیا گیا۔

اسی بارے میں