’این آر او جمہوریت لانے کے لیے جاری کیا گیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عدالت نے کیس کی سماعت بدھ تک ملتوی کر دی

قومی مصالحتی آرڈیننس یعنی این آر او سے متعلق سپریم کورٹ کےفیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست کی سماعت کے دوران وفاق کے وکیل بابر اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آرڈیننس بدعنوانی کے خاتمے کے لیے نہیں بلکہ ملک میں جمہوریت لانے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔

عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ وفاق کو کسی بھی بدعنوان شخص کو تحفظ نہیں دینا چاہیے اور بادی النظر میں سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے وفاق متاثر نہیں ہوئی۔

عدالت نے وفاق کے وکیل سے کہا ہے کہ وہ تیس نومبر تک دو ٹوک الفاظ میں بتائیں کہ وفاق کس طرح سپریم کورٹ کے فیصلے سے متاثر ہوئی ہے جبکہ عدالت نے جن کے خلاف فیصلہ دیا تھا ان میں سے کسی نے بھی عدالت سے رجوع نہیں کیا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سترہ رکنی بینچ نے منگل کو وفاق کی جانب سے دائر کی جانے والی نظرثانی کی درخواست کی سماعت کی۔

بابر اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس آرڈیننس کے تحت مقدمات ری اوپن کرنے کے بارے میں عدالتی احکامات اختیارات سے تجاوز کے مترادف ہیں اور نہ ہی عدالت کو مقدمات کی تفتیش کرنے کا اختیار ہے جس پر وفاق کو تحفظات ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تحفظات تو ان کو ہونے چاہیے تھے جن کے خلاف فیصلہ دیا گیا وفاق اس سے کیسے متاثر ہوئی ہے۔

بینچ میں شامل جسٹس تصدق حیسن جیلانی نے کہا کہ وفاقی حکومت نہ تو این آر او سے متعلق عدالتی کارروائی میں کھل کر سامنے آئی اور نہ اب نظرثانی کی درخواست میں اُس کا نکتہ نظر واضح ہے۔

وفاق کے وکیل کا کہنا تھا کہ صرف بدعنوانی ہی این آر او کا حصہ نہیں ہے بلکہ حکومت اس فیصلے کے نتائج سے متاثر ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ این آر او کے عدالتی فیصلے سے حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت متاثر ہوئی ہے اور اگر عدالت نے ایسا فیصلہ دینا تھا تو اسے پارٹی کی قیادت کو نوٹس دینا چاہیے تھا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کسی ایک جماعت کو وفاق قرار نہیں دیا جاسکتا۔

بینچ میں شامل جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ یہ معاہدہ تو دو افراد کے درمیان ہوا تھا تو پھر اس سے وفاق کیسے متاثر ہوئی ہے۔

بابر اعوان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ اس وقت کے سابق صدر پرویز مشرف اور حزبِ اختلاف کی نمائندہ بینظیر بھٹو نے کیا تھا اس لیے اس کو دو افراد کے درمیان معاہدہ کہنا درست نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ حیرت ہے کہ جمہوری حکومت ایک آمر کے کالے قانون کو تحفظ دینے کی کوشش کر رہی ہے اور اگر وفاق اس آرڈیننس کو تحفظ فراہم نہ کرے تو اس کی بڑی ساکھ بنتی ہے۔

بابر اعوان نے کہا کہ اس آرڈیننس کے تحت ہی بینظیر بھٹو پاکستان آئیں اور ملک سے مارشل لاء کا خاتمہ ہوا۔ اُنہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات نہیں کھولے جاسکتے اس لیے سپریم کورٹ اپنے اس فیصلے پر نظرثانی کرے۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے این آر او کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس سے مستفید ہونے والے افراد کے خلاف مقدمات دوبارہ کھولنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے حکومت کو صدر آصف علی زرداری کے خلاف سوئس مقدمات دوبارہ کھولنے کے لیے سوئس حکام کو خط لکھنے کے بارے میں کہا تھا تاہم وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ صدر کو آئین کے تحت استثناء حاصل ہے اس لیے اُن کے خلاف اندرون یا بیرون ملک مقدمات نہیں کھولے جاسکتے۔

اسی بارے میں