امریکہ میں سفیر کا عہدہ، پرکشش ترین

Image caption سابق فوجی سربراہ جنرل جہانگیر کرامت بھی امریکہ میں سفیر رہے

امریکہ میں پاکستانی سفیر کا منصب پُرکشش ترین عہدوں میں شمار کیا جاتا ہے اور یہ ہی وجہ ہے کہ پاکستان کے بڑے آئینی اور عسکری عہدوں پر فائز رہنے والی شخصیات نے بھی امریکہ میں پاکستانی سفیر بننے میں کوئی عار محسوس نہیں کی۔

ملک کا سابق وزیر اعظم ہو یا پھر بری فوج کا سابق سربراہ دونوں نے ہی امریکہ میں بطور سفیر کام کرنے کی پیشکش کو خوش دلی سے قبول کیا۔

پاکستان کے تیسرے وزیر اعظم محمد علی بوگرہ وزارت عظمیٰ کی ذمہ داریاں سنبھالنے سے پہلے امریکہ میں سفیر کے طور پر کام کررہے تھے اورامریکہ میں پاکستانی سفیر کے منصب کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ محمد علی بوگرہ جب وزیراعظم کے عہدے سے الگ ہوئے تو انہوں نے دوبارہ امریکہ میں پاکستانی سفیر کا عہدہ سنبھالنے میں کسی تذبذب کا مظاہرہ نہیں کیا۔

پاکستان کے امریکہ میں پہلے سفیر ایم اے ایچ اصفہانی تھے جبکہ میجر جنرل ریٹائرڈ این اے ایم رضا پہلی عسکری شخصیت تھے جن کو جنرل یحیٰی خان نے امریکہ میں سفیر مقرر کیا تھا۔

جمہوری حکومت ہو یا پھر فوجی آمریت کا دور پاکستان میں آرمی چیف کا عہدہ ملکی سیاست میں طاقت کا مرکز تصور کیا جاتا ہے۔ آرمی چیف کے عہدے سے مستعفی ہونے والے جنرل جہانگیر کرامت نے بھی جنرل پرویز مشرف کے دور میں امریکہ میں سفیر کا منصب سبنھالنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔

سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں پاک فصائیہ کے سربراہ رہنے والے ائیر چیف مارشل ذوالفقار علی خان بھی امریکہ میں پاکستانی سفیر رہے۔ انہیں سابق وزیر اعظم بینظیر نے اپنے پہلے دور حکومت میں سفیر مقرر کیا تھا۔

جنرل جہانگیر کرامت کی جگہ جنرل پرویز مشرف نے میجر جنرل ریٹائرڈ محمود علی درانی کو سفیر متعین کیا جو سفیر کی حیثیت سے چھٹے سابق جرنیل تھے۔

پاکستان کے سابق وزیر خارجہ لیفٹیٹنٹ جنرل صاحزادہ یعقوب علی خان بھی امریکہ میں پاکستانی سفیر رہے اور انہوں نے طویل ترین مدت یعنی چھ برس تک بطور امریکی سفیر فرائض انجام دیے جبکہ سفارت کار طارق فاطمی پاکستان کے امریکہ میں انتہائی کم عرصے یعنی تین ماہ تک سفیر رہے۔

عابدہ حسین وہ پہلی خاتون تھیں جن کو امریکہ میں سابق وزیر اعظم نواز شریف نے سفیر مقرر کیا اور جب سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو نے اقتدار سنبھالا تو انہوں نے اپنے دوسرے دور حکومت میں خاتون سفیر مقرر کرنے کی روایت برقرار رکھی اور ملیحہ لودھی کو سفیر بنایا۔

محمد علی بوگرہ اور ملیحہ لودھی کو حکومت پاکستان کی طرف سے دو دو مرتبہ امریکہ میں سفیر مقرر کیا گیا۔ ملیحہ لودھی کو دوسری مرتبہ جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کی حکومت ختم کرنے کے بعد سفیر کے عہدے پر مقرر کیا۔

سفیر بننے والی شیری رحمان پہلی خاتون رکن اسمبلی ہیں جو خواتین کی مخصوص نشستوں پر قومی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں اور اب امریکہ میں سفیر مقرر کی گئیں ہیں۔

مستعفی ہونے والے سفیر حسین حقانی اور نئی سفیر شیری رحمان دونوں کا تعلق شعبہ صحافت سے رہا ہے۔ ان دونوں کے علاوہ سابق سفیر ملیحہ لودھی کا تعلق بھی صحافت سے رہا اور وہ اب بھی کالم نگاری کررہی ہیں۔

اسی بارے میں