امن مذاکرات کے لیے سخت شرائط

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستانی ذرائع ابلاغ میں کچھ دنوں سے یہ اطلاعات مسلسل گردش کر رہی ہیں کہ کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان اور حکومت کے مابین امن مذاکرات کا آغاز ہوچکا ہے لیکن دوسری جانب فریقین ایک دوسرے کےسامنے سخت شرائط بھی پیش کر رہے ہیں جس سے بظاہر بات چیت کے کامیاب ہونے کے امکانات کم ہی نظر آ رہے ہیں ۔

سمتبر میں آسلام آباد میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس کے اختتام کے چند دن بعد ہی یہ اطلاعات گردش کرنے لگی تھیں کہ تحریکِ طالبان اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے لیے طریقۂ کار وضع کیا جا رہا ہے۔

آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیہ میں یہ شق خصوصی طورپر شامل کی گئی تھی کہ قبائلی علاقوں میں سکیورٹی فورسز کے خلاف برسرِ بیکار طالبان کو مذاکراتی عمل میں شامل کیا جائے۔

گزشتہ چند دنوں سے ایک مرتبہ پھر اس بات میں شدت آ رہی ہے کہ طالبان اور حکومت کے درمیان ابتدائی رابطے ہوئے ہیں اور اخبارات میں بھی اس قسم کی خبریں روزانہ شائع ہو رہی ہیں۔

ایک غیر ملکی خبررساں ادارے نے کل اپنی رپورٹ میں یہاں تک کہہ دیا کہ طالبان نے جنگ بندی کا اعلان کردیا ہے لیکن بعد میں عسکریت پسندوں کی جانب سے اس کی تردید کی گئی۔

طالبان ترجمان احسان اللہ احسان نے البتہ ایک دو مرتبہ حکومت سے مذاکرات کی تصدیق ضرور کی ہے۔

دوسری جانب حالیہ دنوں میں فریقین نے مذاکرات کے حوالے سے میڈیا کو جاری کیے گئے بیانات میں جو شرائط پیش کی ہیں اسے انتہائی سخت کہا جا رہا ہے۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ فریقین مذاکرات میں دلچسپی ہی نہیں رکھتے اس لیے اس قسم کے مطالبات کیے جا رہے ہیں۔

تحریکِ طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے چند دن قبل بی بی سی سے گفتگو میں اس بات کو واضح کیا تھا کہ ان کی حکومت سے امن بات چیت اس صورت میں کامیاب ہوسکتی ہے کہ جب پاکستان امریکہ سے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں اپنا اتحاد ختم کردے۔

ان کا کہنا تھا کہ طالبان اس لیےمذاکرات میں دلچسپی نہیں رکھتے کیونکہ ان کے بقول پاکستانی حکومت ہر مرقع پر امریکہ کا ساتھ دیتی ہے اس سے پہلے تحریکِ طالبان کے نائب امیر مولوی فقیر محمد بھی کچھ اسی قسم کے خیالات کا اظہار کر چکے ہیں۔

دوسری جانب وفاقی وزیرِداخلہ رحمان ملک کئی مرتبہ یہ کہہ چکے ہیں کہ ’طالبان پہلے ہتھیار پھنکیں اس کے بعد ان سے مذاکرات ہوسکتے ہیں۔‘

یہ ایسے بیانات ہیں جو فریقین کئی مرتبہ ذرائع ابلاغ کو جاری کرچکے ہیں بلکہ آج کے اخبارات میں بھی اس قسم کے رپورٹوں کو دہرایا گیا ہے۔ اگر ان بیانات کی روشنی میں تجزیہ کیا جائے تو پھر تو ان مذاکرات کے کامیاب ہونے کے امکانات بہت کم ہی نظر آتے ہیں۔

اس بات پر سب لوگ متفق ہوں گے کہ نہ تو کبھی طالبان ہتھیار رکھیں گے اور نہ ہی حکومت امریکہ سے اپنا اتحاد ختم کریگی۔ لیکن پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فریقین ایک دوسرے کے سامنے اتنی سخت شرائط کیوں پیش کر رہے ہیں۔؟ وہ بات چیت میں سنجیدہ نہیں یا کوئی اور بات ہے۔؟

گزشتہ کچھ عرصہ سے سکیورٹی فورسز نے قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف کامیاب کارروائیاں کی ہیں جس کی وجہ سے بیشتر علاقوں سے عسکریت پسندوں کو نکل جانے پر مجبور کیا گیا ہے ان میں سوات، باجوڑ اور مہمند ایجنسی کے علاقے شامل ہیں۔

ان کارروائیوں کی وجہ سے طالبان ختم تو نہیں ہوئے البتہ وہ کمزور ضرور ہوئے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان علاقوں سے نکالے جانے والے طالبان کے بعض دھڑوں جن میں مولوی فقیر محمد، کمانڈر عمر خالد اور مولانا فضل اللہ کے گروپ شامل ہیں، نے افغان سرحدی علاقوں کونڑ اور نورستان میں پناہ لے رکھی ہے۔

اس سے پہلے کئی مرتبہ حکومت اور طالبان کے مابین بات چیت اور امن معاہدے ہوچکے ہیں لیکن مذاکرات شروع کرنے سے پہلے کبھی بھی اتنی سخت شرائط نہیں رکھی گئیں۔

دوسری جانب طالبان نے مذاکرات کے لیے ایسی شرط رکھ دی ہے جس پر عمل کرنا حکومت کے لیے ممکن نہیں ہے۔ اس کے علاوہ فوج کی جانب سے بھی حالیہ دنوں میں ایسے بیانات سامنے آئے ہیں جس سے بظاہر لگتا ہے کہ ان تین گروپوں سے بات چیت مشکل دکھائی دیتی ہے۔

اسی بارے میں