’ذولفقار مرزا کی سرگرمیوں کا نوٹس لیں‘

ڈاکٹر فاروق ستار تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ڈاکٹر فاروق ستار اور انیس احمد قائم خانی نےصدر اور چیف جسٹس کوخط لکھا ہے

متحدہ قومی مومنٹ نے صدر اور چیف جسٹس آف پاکستان سے صوبۂ سندھ کے سابق وزیرِداخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی لندن میں سرگرمیوں کا نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے ناراض رہنماء ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی لندن اسکاٹ لینڈ یارڈ کے حکام سے ملاقاتوں اور دیگر سرگرمیوں کے بعد متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار اور انیس احمد قائم خانی نے صدر آصف علی زرداری اور چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کو خط لکھا ہے جس میں ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے بیانات اور سرگرمیوں کا نوٹس لینے کی اپیل کی گئی ہے۔

ایم کیو ایم کی جانب سے جاری کیے گئے اس خط کے متن کے مطابق دونوں رہنماؤں نے رواں سال اگست میں ڈاکٹر مرزا کی پریس کانفرنس کا بھی حوالہ دیا ہے جس میں انہوں نے ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین پر امریکہ کے ساتھ ملکر پاکستان توڑنے کی سازش میں شریک ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔ اس الزام کی ایم کیوایم نے سختی سے تردید کی تھی۔

دونوں رہنماؤں نے خط میں مزید کہا ہے کہ اکیس نومبر کو ایک نجی ٹیلیویژن کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں سینئر وزیر پیر مظہر الحق نے واضح الفاظ میں ذوالفقار مرزا کے الزامات کی تردید کی اور کہا کہ الطاف حسین نے کبھی بھی خفیہ یا اعلانیہ طور پر پاکستان توڑنے کی کسی سازش کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔

ڈاکٹر فاروق ستار اور انیس قائم خانی نے صدر آصف علی زرداری اور چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے مطالبہ کیا کہ الطاف حسین کےخلاف بے بنیاد الزام تراشی کرنے اور لوگوں کو گمراہ کرنے اور بغیر کسی واضح ثبوت کے الطاف حسین پر ملک توڑنے کی سازش کا الزام لگانے پر ذوالفقار مرزا کےخلاف کارروائی عمل میں لائی جائے کیونکہ ان کے بے بنیاد الزام سے الطاف حسین اور ان کے کروڑوں چاہنے والوں کی دل آزاری ہوئی ہے۔