کوئی آیا بھی تو پھر اس نے پلٹ کر۔۔۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں ان کی زیر قیادت سیاسی تبدیلی آچکی ہے لیکن بعض آزاد مبصرین نے ان کے اس دعوے کو مسترد کیا ہے۔

عمران خان نے یہ دعویٰ سینیٹر شفقت محمود کی اپنی پارٹی میں شمولیت کے موقع پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں بھی کیا۔

سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار نذیر ناجی کا کہنا ہے ’دنیا کا ہر سیلز مین اپنی پراڈکٹ کو ہی بہتر قرار دیتا ہے اور عمران خان بھی یہی کر رہے ہیں۔‘

لاہور سے نامہ نگار علی سلمان کا کہنا ہے کہ عمران خان آئے روز کسی نہ کسی پریس کانفرنس میں سیاسی رہنماؤں کی اپنی جماعت میں شمولیت کا ذکر کرتے ہیں۔ لیکن ان کے مخالفین کا کہنا ہے کہ تاحال وہ کسی ایک بھی ایسی تگڑی شخصیت کو اپنی جماعت میں شامل نہیں کرسکے جسے جیتنے والا امیدوار قرار دیا جاسکے۔

مبصرین سابق گورنر پنجاب میاں اظہر کو بھی ایک ہارے ہوئے سیاسی گھوڑے سے زیادہ اہمیت دینے کو تیار نہیں ہیں۔

تحریک انصاف نے ضلع شیخوپورہ سے مسلم لیگ قاف سے تعلق رکھنے والے جن دو سابق اراکین قومی اسمبلی اور چھ سابق اراکین صوبائی اسمبلی کی اپنی جماعت میں شمولیت کو ضلعی سیاست میں ایک بڑا کارنامہ قرار دیا تھا۔ تحریک انصاف کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اس کے مقابلے میں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے پاس اسی ضلع میں کئی درجن ایسے افراد موجود ہیں جو حقیقت میں انتخاب جیتنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔

ان کے بقول چند مسترد کردہ لوگوں کی شمولیت کو انقلاب کی نوید قرار نہیں دینا چاہیے۔

نذیر ناجی نے کہا کہ لاہور کے جلسے کے بعد عمران خان کا خیال تھا کہ دنیا بدل جائے گی لیکن الیکشن جیتنے کی اہلیت رکھنے والا ایک بھی سیاسی شخص ان کی جماعت میں شامل نہیں ہوا ۔ ’ کوئی آیا بھی تو پھر اس نے پلٹ کر نہیں دیکھا۔‘

نذیر ناجی کا اشارہ شاید شاہ محمود قریشی کی جانب تھا جن سے ملاقات کے بعد عمران خان نے بیان جاری کردیا تھا کہ وہ ان کی پارٹی میں آ رہے ہیں۔ لیکن منگل کو ان کی نواز شریف سے ملاقات کے بعد جب دوبارہ عمران خان سے ان کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا مختصر جواب تھا کہ ’یہ بات شاہ محمود قریشی سے ہی پوچھیں‘۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پندرہ سالہ تحریک انصاف کے مدمقابل ایسی سیاسی جماعتیں ہیں جو تیس تیس چالیس چالیس برسوں میں کتنی بڑی بڑی ریلیاں اور جلسے کرچکی ہیں۔ ان مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ جماعتیں آج بھی بڑی ریلیاں نکالنے کے اہلیت رکھتی ہیں۔

مسلم لیگ نواز کے ترجمان سینٹر پرویز رشید کا کہنا ہے کہ عمران خان کی جماعت نے نہ تو مسلم لیگ نون کو کوئی نقصان پہنچایا ہے اور نہ ہی اس میں اتنی اہلیت ہے کہ وہ مسلم لیگ نون کو کوئی نقصان پہنچا سکے۔

سینٹر پرویز رشید نے کہا کہ عمران خان خفیہ ایجنسیوں کے سابق اہلکاروں اور ریٹائرڈ سرکاری افسروں کو اپنی جماعت میں شامل کرکے اسے نوجوانوں کی جماعت قرار دے رہے ہیں۔

تحریک انصاف کے مخالفین اس پر تواتر سے اسٹیبلشمنٹ کی جماعت ہونے کا الزام عائد کرتے ہیں جس کی عمران خان نے ہمیشہ تردید کی ہے۔

عمران خان نے لاہور جلسے میں تیس اکتوبر کو ہی متنازع میمو اور حسین حقانی کا ذکر کر دیا تھا حالانکہ اس وقت تک حسین حقانی کا نام کسی میڈیا میں نہیں آیا تھا۔

تحریک انصاف کے مخالفین نے سوال اٹھایا ہے کہ یہ نام انہیں اگر اسٹیبلشمنٹ نے نہیں بتایا تھا تو پھر کس نے بتایا؟

اسی بارے میں