حقانی کی خدمات کا اعتراف،نئی سفیر کا خیرمقدم

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شیری موجودہ حکومت میں وزیرِ اطلاعات بھی رہ چکی ہیں

امریکہ نے شیری رحمان کی بطور پاکستانی سفیر امریکہ میں تقرری کا خیر مقدم کرتے ہوئے متنازعہ مراسلے کے معاملے پر مستعفی ہونے والے سابق سفیر حسین حقانی کی خدمات کی تعریف کی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے کہا ہے کہ حسین حقانی نے اپنی مدت کے دوران پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کے لیے جس مضبوط حمایت کا مظاہرہ کیا ہم اسے قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ امریکہ کو اب تک حسین حقانی کے استعفے اور ان کی تبدیلی کے متعلق باضابطہ نوٹیفیکیشن نہیں ملا ہے لیکن انہوں نے جمہوریت پسند سیاستدان شیری رحمان کی پاکستانی سفیر کی حیثیت سے تقرری کا خیرمقدم کیا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم یقیناً شیری رحمان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے خواہاں ہیں تاکہ دونوں ملکوں مضبوط اور مشترکہ تعلقات کی تعمیر کی کوششیں جاری رکھ سکیں۔

خیال رہے کہ پاکستان کے وزیراعظم نے امریکی ایڈمرل مائیک مولن کو لکھے جانے والے متنازع خط کے معاملے پر امریکہ میں پاکستانی سفیر حسین حقانی سے استعفیٰ لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا ہے جبکہ شیری رحمان کو بدھ امریکہ میں پاکستان کا نیا سفیر مقرر کیا گیا ہے۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق شیری رحمان نے بدھ کو وزیراعظم سے ملاقات کی تھی جس کے بعد انہیں سفیر مقرر کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ شیری رحمان موجودہ حکومت میں وزیرِ اطلاعات بھی رہ چکی ہیں اور اس وقت وہ ہلالِ احمر پاکستان کی سربراہ تھیں۔

امریکہ کے لیے پاکستان کی نامزد سفیر شیری رحمان نے بدھ کو اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلعقات میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ شیریں رحمان کا کہنا تھا کہ امریکہ سے تعلقات میں قومی مفاد اولین ترجیح ہے اور پاکستان کا موقف ہر فورم پر پیش کریں گے۔

نامزد سفیر کے مطابق دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیاں ضائع نہیں ہونی چاہیئیں۔ شیری رحمان کا کہنا تھا کہ وہ خود کو سونپی جانے والی ذمہ داریوں کو بھر پور طریقے سے انجام دیں گی۔

انہوں نے کہا ہے کہ متنازعہ خط کا معاملہ دونوں ملکوں کے تعلقات پر اثر انداز نہیں ہوگا اور یہ کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں قومی سلامتی، خود مختاری اور وقار کا ہر صورت میں دفاع کیا جائے گا۔

سابق سفیر حسین حقانی سے وزیراعظم نے ان کے اوپر لگنے والے اس الزام کے پس منظر میں استعفٰی طلب کیا تھا کہ انہوں نے اس سال مئی میں پاکستان میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے ایک ہفتے بعد اس وقت کے امریکی افواج کے سربراہ جنرل مائیک مولن کو ایک خط بھجوایا تھا جس میں پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے اپنی حکومت کا تختہ الٹنے کے کسی ممکنہ فوجی اقدام کے خلاف امریکہ سے مدد طلب کی تھی۔

حسین حقانی نے پاکستانی نژاد امریکی کاروباری شخصیت اور لابیئسٹ منصور اعجاز کی جانب سے لگائے جانے والے اس الزام کی تردید کی ہے جبکہ ایڈمرل (ر) مائیک مولن نے اس خفیہ خط کے ملنے کی تصدیق کی ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ نہ تو انہوں نے اس پر توجہ دی اور نہ ہی اس کے بارے میں کوئی کارروائی کی۔

حسین حقانی کو اس معاملے پر وضاحت کرنے کے لیے ہفتۃ رواں کے آغاز میں پاکستان طلب کیا گیا تھا اور وطن واپسی کے بعد انہوں نے منگل کو سیاسی اور فوجی قیادت سے ملاقاتیں کی تھیں۔

منگل کی شب وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ وزیراعظم نے اس معاملے کی تفصیلی تحقیقات کا حکم دیا ہے اور امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی سے کہا ہے کہ وہ مستعفی ہو جائیں تاکہ باقاعدہ تحقیقات کی جا سکیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption امریکہ نے حسین حقانی کی بطور سفیر خدمات کا اعتراف کیا ہے

وزیراعظم ہاؤس کے ترجمان نے اس بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ اس معاملے میں جو بھی ملوث ہے اسے صفائی پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے گا اور تحقیقات صاف، شفاف اور غیر جانبدار طریقے سے کی جائیں گی۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے ’متنازع خط کے تیار کرنے، لکھے جانے اور امریکی حکام تک پہنچانے کے باعث یہ ضروری ہو گیا ہے کہ قومی سلامتی کی خاطر حقائق معلوم کیے جائیں‘۔

واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان کے وزیرِاعظم سید یوسف رضا گیلانی نے قومی اسمبلی میں خطاب سے کہا تھا کہ سفیر حسین حقانی سے وضاحت طلب کر لی گئی ہے اور اپوزیشن کو نتیجے کا انتظار کرنا چاہیے۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ میں ’میموگیٹ‘ کے نام سے معروف اس معاملے کا آغاز دس اکتوبر کو اس وقت ہوا تھا جب پاکستانی نژاد امریکی تاجر منصور اعجاز نے برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز میں اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ صدر زرداری نے اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد ملک کی فوجی قیادت تبدیل کرنے اور شدت پسند گروپوں سے تمام تعلق توڑنے کی پیشکش کی تھی۔

بعدازاں منصور اعجاز نے اس خط کے متن کی تمام تر ذمہ داری حسین حقانی پر ڈال دی تھی۔ انہوں نے ایک خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اس خط کا متن اصل میں ان(حسین حقانی) کی جانب سے آیا تھا‘۔

اسی بارے میں