’شاہ محمود کے لیے زمین تنگ کرنے کی کوشش‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر گھوٹکی میں پیپلز پارٹی کے سابق رہنما شاہ محمود قریشی کے ستائیس نومبر کو مجوزہ جلسے سے قبل مقامی انتظامیہ اور جلسے کے منتظمین میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔

اس جلسے کے منتظم غوثیہ جماعت کے مقامی خلیفہ ارشاد قریشی نے بی بی سی کو بتایا کہ پہلے انہوں نے جلسے کا انتظام بس ٹرمینل پر کیا تھا جو ویران جگہ تھی، جس پر انتظامیہ نے اعتراض کیا اور کہا کہ اس سے راستہ بند ہوگا اور ہوسکتا ہے یہاں جلسہ کرنے کی اجازت نہ ملے اس لیے کوئی نجی جگہ دیکھیں۔

ان کے مطابق ’انتظامیہ کے مشورے پر ہم نے نیو سبزی منڈی کے قریب ایک پرائیوٹ جگہ ڈھونڈی جہاں اسٹیج بھی تیار کرلیا گیا مگر اب انتظامیہ کو اس پر بھی اعتراض ہے۔‘

گھوٹکی کے ایس پی پولیس پیر محمد شاہد کا کہنا ہے کہ پہلی جگہ بھی قومی شاہراہ پر تھی، دوسری جگہ بھی نیشنل ہائی وے پر ہے، اگر اسٹیج نیشنل ہائی وے پر ہوگا تو اس سے یہ اہم سڑک بلاک ہوجائیگی۔ ’ہم نے دو اعتراض کیے ہیں، ایک یہاں پارکنگ دستیاب نہیں ہوگی، دوسرا سکیورٹی کا مسئلہ ہوگا کیونکہ کوئی بھی گاڑی آ کر کچھ بھی کرسکتی ہے۔‘

ایس پی کے مطابق انہوں نے پبلک سکول میں جلسے کی تجویز دی ہے یا ایسی کوئی جگہ جو قومی شاہراہ سے ایک کلومیٹر دور ہو وہاں جلسے کی اجازت دی جاسکتی، اگر جلسہ قانونی اجازت سے کریں گے تو انہیں سکیورٹی بھی فراہم کی جائے گی بصورت دیگر وہ اس کے پابند نہیں ہوں گے۔

غوثیہ جماعت کے خلیفہ ارشاد قریشی کا کہنا ہے کہ انتظامیہ جس سکول میں جلسہ کرنے کی بات کر رہی ہے وہاں جانے کے لیے شہر سے گزر کر جانا پڑے گا۔ ’ ہم نے انہیں بتا دیا ہے کہ جلسہ اسی جگہ پر ہوگا سکیورٹی فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔‘

ارشاد قریشی کا کہنا ہے کہ غوثیہ جماعت کے گھوٹکی میں کافی پیروکار ہیں، انہوں نے جب شاہ محمود قریشی وزرات میں تھے تب گھوٹکی آنے کی دعوت دی تھی، جو انہوں نے اب قبول کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم تو لوگوں کو یہ کہہ کر دعوت دے رہے ہیں کہ ہمارا روحانی پیشوا آ رہا ہے، اس میں شرکت کریں دعا کی تقریب بھی ہوگی۔

سندھ میں غوثیہ جماعت اس جلسے کی کامیابی کے لیے سرگرم ہے۔ جماعت کا کہنا ہے کہ تھرپارکر، میرپورخاص، عمر کوٹ، سانگھڑ اور دیگر شہروں سے مریدوں کے قافلے جمعہ سے روانہ ہوں گے، جن کی رہائش کا انتظام گھوٹکی میں کیا گیا ہے، سندھ بھر کے خلیفے پہلے ہی وہاں پہنچ چکے ہیں۔

خلیفہ ارشاد قریشی کا کہنا ہے کہ جلسہ گاہ میں تقریباً پچیس ہزار کرسیاں لگائی جائیں گی جبکہ غوثیہ جماعت کے لوگ زمین پر بیٹھ کر یا کھڑے ہو کر اپنے روحانی پیشوا کا خطاب سنیں گے۔

گھوٹکی میں مہر سردار اثر رسوخ رکھتے ہیں۔ اسی خاندان سے علی محمد مہر سندھ کے وزیر اعلیٰ بھی رہ چکے ہیں۔ مہر خاندان کے مخدوم شاہ محمود قریشی کے خاندان سے پرانے مراسم ہیں۔ ان کے جلسے کی کامیابی میں ان کا بھی اہم کردار ہوسکتا ہے۔

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی مہر خاندان کو پارٹی میں لانے کے لیے سرگرم ہے۔ صدر زرداری نے خاندان کی معزز شخصیت سردار علی گوہر سے ملاقات بھی کی ہے، جس میں انہیں پیپلز پارٹی میں شمولیت کی باضابط دعوت بھی دی گئی، مگر مہر خاندان کا ابھی کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق مہر خاندان پاکستان کے فیصلہ ساز اداروں کے قریب رہے ہیں اس لیے ان کے فیصلوں میں ان اداروں کی مشاورت بھی شامل ہوتی ہے۔

حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے بعض رکن اسمبلی بھی اس وقت دباؤ کا شکار ہیں، مگر صوبائی وزیرِاطلاعات شازیہ مری اس کی تردید کرتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی پیروں یا میروں کی پارٹی نہیں ہے۔ شاہ محمود قریشی جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں اس لیے وہ اپنے مریدوں کو آزاد کریں تاکہ وہ اپنی مرضی سے فیصلہ کرسکیں۔

اسی بارے میں