مرزا کی سرگرمیاں، ایم کیو ایم کو تشویش

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ڈاکٹر عمران فاروق پاکستان کے شہری تھے میں ان کے بچوں اور ماں کو انصاف دلانے لندن آیا ہوں: ذوالفقار مرزا

پاکستان پیپلز پارٹی کے باغی رہنماء ڈاکٹر ذوالفقار مرزا لندن میں متحدہ قومی موومنٹ کی مخالف قوتوں کو منظم کرنے میں سرگرم ہیں، اس سلسلے میں انہیں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان ، مسلم لیگ ن کے ہمدرد لارڈ نذیر اور دیگر کی بھی حمایت حاصل ہے۔

پاکستان میں تحریک انصاف ان دنوں حکومت مخالف مہم میں سرگرم ہے، مگر اس کے برعکس وہ پیپلز پارٹی کے باغی رہنماء کی مدد کر رہی ہے۔

ڈاکٹر ذاولفقار مرزا نے بی بی سی کو بتایا کہ عمران خان نے ٹیلیفون پر خود ان سے بات کی تھی اور وہ اشوز پر ان کی مدد کر رہے ہیں۔ ’عمران خان نے میری پاکستان بچانے کی آفر قبول کرتے ہوئے مدد کی پیشکش کی جس پر میں ان کا شکر گزار ہوں۔‘

واضح رہے کہ بارہ مئی سنہ دو ہزار سات کو کراچی میں فسادات اور عمران خان کی کراچی آمد پر پابندی کے بعد تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی ایم کیو ایم کے خلاف مبینہ ثبوت برطانوی حکومت کو پیش کرنے کا دعویٰ کیا تھا مگر اس پر کوئی کارروائی سامنے نہیں آئی تھی۔

ڈاکٹر مرزا کا کہنا ہے کہ لندن میں ان کی ارکان پارلیمنٹ اور ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی تحقیقات کرنے والے اسکاٹ لینڈ یارڈ کے حکام سے ملاقات ہوئی ہے۔ ان کے بقول اس کے علاوہ وہ کچھ ایسے افراد سے بھی ملاقاتیں کر رہے ہیں جو ایم کیو ایم کو کالعدم قرار دے سکتے ہیں۔

کراچی میں بدامنی پر سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کی کارروائی کے دوران ڈاکٹر مرزا نے عدالت میں پیش ہونے کے بیانات دیے تھے مگر انہیں طلب نہیں کیا گیا۔

ڈاکٹر مرزا کا کہنا ہے کہ جو ثبوت وہاں ضروری تھے پیش کیے گئے، اس سلسلے میں سپریم کورٹ نے اجمل پہاڑی کیس کا حوالہ بھی دیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے اتنے روز ہوگئے ہیں کسی نے ڈاکٹر مرزا کے دعویٰ کو غلط قرار نہیں دیا جس کی وجہ سے وہ ان باتوں کو درست مانتے ہیں۔

’ڈاکٹر عمران فاروق پاکستان کے شہری تھے میں ان کے بچوں اور ماں کو انصاف دلانے لندن آیا ہوں کیونکہ ان کا قتل یہاں ہوا اور مقدمہ بھی اسی شہر میں درج کیا گیا۔‘

انہوں نے وطن واپسی کی کوئی تاریخ دینے سے انکار کیا اور کہا کہ تیس سال کے معاملات ہیں، ان کی صفائی کے لیے انہیں کم سے کم تیس دن تو ملنے چاہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ نے ڈاکٹر مرزا کی لندن میں سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے، سندھ میں حکمران پیپلز پارٹی کے ساتھ اجلاس اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور صدر آصف علی زرداری سے ملاقاتوں میں بھی اس معاملے پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

سندھ کے ایک صوبائی وزیر کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی اتحادی جماعت کو بتایا ہے کہ گولی فائر ہوچکی ہے اب وہ ان کے بس میں نہیں، اس گولی سے وہ بھی زخمی ہوسکتے ہیں۔

رواں ہفتے متحدہ قومی موومنٹ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون، پاکستان میں برطانوی سفیر، صدر آصف علی زرداری اور چیف جسٹس کو خط لکھ چکی ہے جن میں ڈاکٹر مرزا کے بیانات کو پروپیگنڈہ اور سازش قرار دیا گیا ہے اور اس کا نوٹس لینے کی گزارش کی گئی ہے۔ تاہم ڈاکٹر مرزا کا کہنا ہے کہ ان خطوط سے انہیں اور حوصلہ ملتا ہے۔

ڈاکٹر مرزا نے اپنی اگست کی پریس کانفرنس میں ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین پر پاکستان توڑنے کی سازش میں شریک ہونے کا الزام عائد کیا تھا اور کہا تھا کہ الطاف حسین نے جب یہ بات کی تو سینئر صوبائی وزیر پیر مظہر الحق ان کے ساتھ موجود تھے، مگر تین روز قبل پیر مظہر الحق نے ایک انٹرویو میں اس بات کی تردید کی ہے۔

ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کا کہنا ہے کہ پیر مظہر الحق تین ماہ تک کیا نیند میں تھے، وہ سمجھتے ہیں کہ پیر مظہر جو قیمت مانگ رہے تھے انہیں وہ مل گئی ہے۔ ’اب پیسے ملے ہیں یا کوئی پوزیشن کی پیشکش ہوئی ہے یہ آنے والا وقت بتائے گا۔‘

متحدہ قومی موومنٹ کے دباؤ پر حکمران پیپلز پارٹی نے ڈاکٹر مرزا سے لاتعلقی کا اعلان کیا تھا بعد میں سندھ اسمبلی کے اجلاس میں جب ایم کیو ایم کی رکن ہیر سوہو نے ڈاکٹر کے بیانات کے خلاف مذمتی قرار داد پیش کرنا چاہی تو ڈاکٹر مرزا کے ہمدروں اور دوستوں نے اس پر اعتراض کیا جس کے بعد نام لیے بغیر یہ قرار داد منظور کرلی گئی۔

اسی بارے میں