’بلوچستان میں حقوق نسواں کی پامالی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بلوچستان میں خواتین پر تشدد کے کیسز رجسٹرڈ نہیں ہوتے: مقررین

انسانی حقوق کمیش آف پاکستان اور فلاحی تنظیموں کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ ملک بھر کی طرح بلوچستان میں بھی خواتین کے حقوق کی پامالی تشویشناک صورت اختیار کر چکی ہے۔

کوئٹہ سے بی بی سے کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق بلوچستان ہائی کورٹ کے سابق جج وممتاز قانون دان کیلاش ناتھ کوہلی، انسانی حقوق کے ڈائریکٹر سعید احمد خان، یو این ویمن کی پروگرام افیسر ریحانہ خلجی اور دیگر فلاحی تنظیموں کے نمائندوں نے کوئٹہ میں’عورتوں پر تشدد انسانیت پر تشدد‘کی سولہ روزہ مہم کے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ان خیالات کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ شرح خواندگی میں افسوسناک حد تک کمی، شیلٹرز ہومز کی عدم دستیابی، قبائلی روایات اور معاشرے میں طبعی اور معاشی بگاڑ نے صورتحال کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے اور حکومت کو اس سلسلے میں فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

مہمان خصوصی جسٹس ریٹائرڈ کیلاش ناتھ کوہلی نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ملک میں عورتوں پر ہونے والے تشدد کے خلاف کیے جانے والے اقدامات میں وویمن پروٹیکشن ایکٹ اور اس جیسے دیگر قوانین قابل ذکر ہے جس کے تحت عورتوں کو امتیازی سلوک سے بچانے کے لیے خاطر خواہ قانون سازی کی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں خواتین کی تعداد کل آبادی کے نصف سے بھی زیادہ ہے اس لیے معاشرے میں ان کو مردوں کے برابری کے حقوق دینا ملک کی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ میں ترقی نسواں کے ضمن میں جہاں بہت سے قوانین موجود ہیں، وہاں اس امر کی نشاندہی کرنا بھی بہت ضروری ہے کہ عالمی سطح پر خواتین پر تشدد کو روکنے اور اس کے لیے معاشرے میں لوگوں میں شعور و آگاہی کی فراہمی اور عوام کو متحرک کیا جانا نہایت ضروری ہے اور سولہ روزہ مہم کی تقریب اس ضمن میں مددگار ثابت ہوگی۔

مقررین نے کہا کہ اس وقت اگرچہ پاکستان بھر میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے صورتحال خراب ہے لیکن بلوچستان میں اس لیے یہ زیادہ ہی یہ مسئلہ گھمبیر ہوچکا ہے کہ یہاں خواتین پر تشدد کے کیسز رجسٹرڈ نہیں ہوتے۔

صوبے میں خواتین پر تشدد کی خاص وجہ 84فیصد بچیوں کا ابتدائی تعلیم سے پہلی جماعت تک تعلیم کو خیر باد کہنا ہے۔

مقررین نے کہا کہ جس معاشرے میں خواتین اور مردوں کے حقوق کے درمیان توازن برقرار نہ ہو وہاں تشدد ہی جنم رہتا ہے جس سے پورا معاشرہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ موجودہ دور میں خواتین کے حقوق کے لیے اقدامات اٹھائے گئے ہیں لیکن اس پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ یوں تو خواتین کو ایوانوں میں تینیس فیصد نمائندگی کا اعلان کیا گیا ہے لیکن بلوچستان میں ان کی شرح صرف اٹھارہ فیصد ہے اس کے علاوہ ملک کے دیگر صوبوں میں بھی خواتین کی تینتیس فیصد شرح نہیں۔

مقررین نے مطالبہ کیاکہ گھریلو کام کرنے والی خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے انہیں لیبر لاز میں شامل کیا جائے جبکہ ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے والے کے اہل خانہ میں شامل خواتین کے لیے ڈیٹا بیس بنانے سمیت ان کے لیے شیلٹر ہومز کی تعمیر کو ممکن بنایا جائے کیونکہ خواتین اقوام کی آنکھوں کی مانند اور امن کی علامت ہوتی ہیں۔

اسی بارے میں