این آر او فیصلے پر نظرثانی کی درخواست مسترد

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سولہ دسمبر کے فیصلے پر مِن وعن عملدرآمد کروایا جائے: سپریم کورٹ

پاکستان کی سپریم کورٹ نے حکومت کی جانب سے دائر کردہ این آر او یا قومی مصالحتی آرڈیننس کے متعلق عدالتی فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ نظرِ ثانی کے حوالے سے حکومت کوئی کیس نہیں بنا سکی اور وفاق یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے کہ سولہ دسمبر دو ہزار نو کے عدالتی فیصلے سے وفاق متاثر ہوا۔

سترہ رکنی فل بینچ کی جانب سے سماعت کے بعد عدالت نے جمعے کو سنائے جانے والے فیصلے میں کہا ہے کہ سولہ دسمبر کے فیصلے پر مِن وعن عملدرآمد کروایا جائے۔

وفاق کے وکیل بابر اعوان جمعہ کو عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ سماعت کے دوران عدالت نے ایڈووکیٹ شیخ محمود کی سرزنش کی جنہوں نے وفاق کے وکیل بابر اعوان کی چند خاندانی مصروفیات ہونے کی وجہ سے عدالت میں پیش نہ ہونے سے متعلق درخواست دی تھی۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’خاندان سب کے ہوتے ہیں اور یہ سترہ رکنی بینچ تمام تر مصروفیات کو چھوڑ کر صرف وفاق کا موقف جاننے کے لیے بیٹھا ہے‘۔

جمعہ کو عدالت میں سنہ انیس سو ستانوے اور اٹھانوے کے دوران پاکستانی اور سوئس حکومت کے دوران ہونے والی خط و کتابت سے متعلق چند خفیہ دستاویزات بھی پڑھ کر سنائی گئیں تاہم عدالت کا کہنا تھا کہ یہ خطوط نظر ثانی کی درخواست سے متعلق نہیں ہیں۔

عدالت نے سیکرٹری قانون مسعود چشتی کو عدالت میں پیش کی گئیں خفیہ دستاویزات پڑھنے سے متعلق کہا تو اُنہوں نے اس کا صرف ایک صحفہ پڑھا اور باقی صفحات پر پڑھنے سے انکار کر دیا کہ اُنہیں اس ضمن میں ہدایات نہیں ملیں۔

چیف جسٹس نے اس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ سیکرٹری قانون ہیں اور وہ وفاق کے وکیل کو ہدایات جاری کرسکتے ہیں نہ کہ اُنہیں کسی سے اجازت لینے کی ضرورت ہے۔

عدالتی فیصلہ آنے کے بعد سپریم کورٹ کے احاطے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے معروف وکیل بیرسٹر اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی تعمیل لازم اور حکومت اس پر عملدرآمد کی پابند ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں لگتا کہ اس فیصلے سے حکومت اور عدلیہ میں کوئی تناؤ پیدا ہوگا اور اداروں میں تناؤ پیدا ہونا بھی نہیں چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سوئس عدالتوں میں بھی صدر کو استثناء حاصل ہوگا اس لیے مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔

سپریم کورٹ بار نے این آر او نظر ثانی درخواست مسترد کرنے کے فیصلے کو اہمت کا حامل قرار دیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس پر آئین کے تحت عمل درآمد کیا جائے ۔

فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی یہ درخواستیں وفاق کے علاوہ سابق اٹارنی جنرل ملک قیوم، قومی احتساب بیورو (نیب) کے اس وقت کے چیئرمین نوید احسن اور نیب کے ہی پراسیکیوٹر اور ایڈیشنل پراسیکیوٹر کی طرف سے دائر کی گئی تھیں۔

نظرثانی کی ایک درخواست میں کہا گیا ہے کہ سوئس مقدمات دوبارہ کھولنے سے متعلق کسی درخواست میں ذکر نہیں تھا جب کہ عدالت نے این آر او سے متعلق فیصلے میں ان مقدمات کو دوبارہ شروع کرنے کے بارے میں احکامات دیے ہیں۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے سولہ دسمبر دو ہزار نو کو اپنے متقفہ فیصلے میں قومی مفاہمتی آرڈیننس کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا تھا اور اس کے تحت ختم کیے گئے تمام مقدمات پانچ اکتوبر دو ہزار سات سے قبل کی پوزیشن پر بحال کر دیے تھے۔

اسی بارے میں