قریشی کوگھوٹکی میں جلسے کی اجازت

شاہ محمود قریشی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شاہ محمود قریشی اپنے سیاسی مستقبل کا اعلان اسی جلسے میں کریں گے

سندھ ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر شاہ محمود قریشی کوگھوٹکی میں جلسہ کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

شاہ محمود قریشی کی روحانی تنظیم غوثیہ جماعت کے پیروکار پپوخان چاچڑ نے ایڈووکیٹ قربان ملانو کی ذریعے سکھر ہائی کورٹ بینچ میں ایک درخواست دائر کی تھی جس میں ضلعی انتظامیہ گھوٹکی کی جانب سے جلسے کی اجازت اور سکیورٹی فراہم نہ کرنے کے اقدامات کو چیلنج کیا گیا تھا۔

جسٹس محمد علی مظہر کے روبرو جمعہ کو سماعت کے موقعہ پر ایس پی گھوٹکی پیر محمد شاہ اور ڈپٹی کمشنر زاہد عباسی عدالت میں پیش ہوئے اور اپنے موقف سے آگاہ کیا۔

ایڈووکیٹ قربان ملانو نے عدالت کو بتایا کہ جلسہ قومی شاہراہ سے دور کیا جارہا ہے جبکہ پارکنگ کا بھی انتظام کیا گیا ہے اور اس کی وجہ سے ٹریفک کی روانی کا کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد گھوٹکی بائی پاس کے قریب جلسہ منعقد کرنے کی اجازت دے دی۔

عدلیہ نے ہدایت کی کہ انتظامیہ اور غوثیہ جماعت اس بات کو یقینی بنائیں کہ جلسے کے دوران قومی شاہراہ پر ٹریفک کی روانی میں کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو۔

واضح رہے کہ گھوٹکی ضلعی انتظامیہ نے قومی شاہراہ پر جلسے کرنے پر اعتراض کیا تھا۔ ایس پی گھوٹکی پیر محمد شاہ کا کہنا تھا کہ اگر اسی جگہ جلسہ منعقد کیا گیا تو اس سے ٹریفک کی روانی معطل ہوجائےگی جس سے امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے، دوسرا اس جگہ سکیورٹی فراہم کرنا بھی دشوار ہوگا۔

دوسری جانب گھوٹکی میں تحریک انصاف بھی سرگرم ہوگئی ہے اور شہریوں کو ستائیس نومبر کو عمران خان کے استقبال کی دعوت دی جا رہی ہے۔ عمران خان نے شاہ محمود قریشی کے جلسے میں شرکت کا اعلان کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ قریشی ان کی جماعت میں شامل ہوں گے۔

شاہ محمود قریشی نے عمران خان کے علاوہ مسلم لیگ ن، سندھ کی قوم پرست جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی شہید بھٹو سے بھی رابطے کیے ہیں مگر جلسے میں شرکت کا اعلان صرف عمران خان کی طرف سے سامنے آرہا ہے۔ یاد رہے کہ شاہ محمود قریشی اپنے سیاسی مستقبل کا اعلان اسی جلسے میں کریں گے۔

اسی بارے میں