پاکستانی سکیورٹی فورسز نیٹو کے نشانے پر

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پاک افغان سرحد پر تعینات سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر نیٹو اور ایساف کی جانب سے پانچ سے زیادہ حملے ہو چکے ہیں جبکہ عام آبادی پر ہونے والے حملوں کی تعداد درجنوں میں ہے۔

تاہم حکومتِ پاکستان کی جانب سے امریکی حملوں پر احتجاج صرف سرکاری چوکیوں پر حملے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

اس سے پہلے سرحد پار سے کیے جانے والے حملوں پر پاکستان اور امریکہ کے درمیان تناؤ کی صورت حال بھی پیدا ہوئی تھی۔ امریکی حکام ہر حملے کے بعد پاکستان کو تسلی دیتے ہیں کہ ’آئندہ پاکستان کی خودمختاری کا پورا احترام کیا جائے گا‘ تاہم اس کے بعد بھی حملے جاری رہتے ہیں۔

امریکی حملوں میں صرف سکیورٹی فورسز کے اہلکار نشانہ نہیں بنتے بلکہ ان میں بڑی تعداد میں عام شہری بھی ہلاک ہوتے ہیں۔

گیارہ جون سنہ دو ہزار آٹھ کو مہمند ایجنسی میں افغان سرحد کے قریب امریکی اور اتحادی فوجیوں کے ایک فضائی حملے میں گیارہ پاکستانی فوجیوں سمیت بیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں پاکستانی فوج کا ایک افسر بھی شامل تھا۔

تین ستمبر سنہ دو ہزار آٹھ کو جنوبی وزیرستان میں امریکی اور اتحادی فوجیوں نے پاکستانی علاقے موسی نیکہ میں پاؤجان نامی ایک شخص کے مکان کے اندر کارروائی کرتے ہوئے اکیس افراد کو ہلاک کردیا تھا جس میں بچے اور خواتین بھی شامل تھیں۔

بارہ مئی سنہ دو ہزار گیارہ کو شمالی وزیرستان کے علاقے لواڑہ منڈی میں نیٹو افواج نے ایک پاکستانی چوکی کو نشانہ بنایا تھا جس میں سکیورٹی فورسز کے تین اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

اس واقعہ کے چند روز بعد شمالی وزیرستان ہی میں ایک چوکی پر نیٹو کی جانب سے ایک حملے میں دو اہلکار زخمی ہوئے تھے اور اس سے پہلے بھی ایک حملے میں ایک اہلکار ہلاک جبکہ تین زخمی ہوئے تھے۔

اس طرح حکام کے مطابق کُرم ایجنسی کے علاقے غزگئی میں نیٹو افواج کے ایک میں حملے میں پانچ عام شہری ہلاک ہوئے تھے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ نیٹو کے فضائی حملوں کے علاوہ سکیورٹی فورسز کے اہلکار اور عام شہری افغان سرحد سے داغے جانے والے توپخانے کے زد میں بھی کئی بار آچکے ہیں جس میں جانی نقصان کے علاوہ املاک کو نقصان پہنچا۔

اسی بارے میں