کراچی: فائرنگ سے دو ہلاک، پانچ زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فائرنگ کے بعد مشتعل افراد نے بیس سے زائد موٹر سائیکلوں اور پانچ گاڑیوں کو آگ لگا دی

کراچی میں حکام کے مطابق ایم اے جناح روڈ پر نمائش چورنگی کے قریب فائرنگ کے ایک واقعے میں دو افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیس کےمطابق فائرنگ کا یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایم اے جناح روڈ پر مذہبی جماعت و اہلسنت و الجماعت کی ریلی کے اختتام پر نمائش چورنگی پر لگائےگئے ابو تراب سکاؤٹس کے ایک کیمپ پر فائرنگ ہوئی جس سے وہاں موجود دو سکاؤٹس ہلاک ہوگئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے کچھ مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

فائرنگ کے بعد مشتعل افراد نے نمائش چورنگی پر ہنگامہ آرائی کی جس کے دوران بیس سے زائد موٹر سائیکلوں اور پانچ گاڑیوں کو آگ لگا دی۔

کراچی کے ضلع شرقی کے ڈپٹی کمشنر قاضی جان محمد نے بی بی سی کو بتایا کہ’ اس سال یہ ریلی ریگل چوک کی بجائے تبت سینٹر پر ختم ہوئی جہاں سے واپس آتے ہوئے مذہبی جماعت کے کچھ ارکان نے محرم الحرام کے سلسلے میں قائم کی گئی ایک سبیل پر فائرنگ کر دی۔‘

انہوں نے بتایا کہ نشتر پارک میں ہونے والی مجلس کے شرکاء اس واقعے کے بعد باہر آئے جس سے یہ لوگ قریب میں واقع ایک مسجد میں جا کر چھپ گئے جہاں بہت سے نمازی بھی تھے جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بعد میں پولیس نے تمام افراد کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ عورتوں اور بچوں اور پینسٹھ سال سے زائد عمر کے افراد کو رہا کر دیا جائے گا جبکہ باقی افراد کی سکریننگ جاری ہے جنہیں جلد ہی شناخت کر لیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مسجد سے اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔

واقعے کے بعد جعفریہ الائنس کے سیکریٹری جنرل علی محمد نقوی نے کہا کہ’جو دہشت گرد پکڑےگئے ہیں ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔‘

انہوں نے واقعے کی ذمہ داری’اہلسنت و الجماعت کی ریلی کے منتظمین پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کے اصل ذمہ دار وہی لوگ ہیں اس لیے ان کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کی جائے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ کا لائحہ عمل تمام علماء مل کر طے کریں گے البتہ پیر کو نشتر پارک کی بجائے مرکزی مجلس ِ عزاء نمائش چورنگی پر برپا ہوگی جس میں تمام عزادار شرکت کریں گے۔

دوسری جانب اہلسنت و الجماعت کراچی ڈویژن کے ترجمان تاج محمد نے الزام عائد کیا کہ ان کے پرامن جلوس کے اختتام پر واپس جاتے ہوئےامام بارگاہ علی رضا سے فائرنگ کی گئی اور بعد میں ان کے کارکنان اور جلوس کے شرکاء کو مسجد میں محبوس کردیا جنہیں بعد میں رینجرز نےگرفتار کر لیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر ان کے کارکنان اور ہمدردوں کو رہا نہ کیا گیا تو اس پر زبردست احتجاج کیا جائے گا۔

اسی بارے میں