شمسی ائر بیس، تلور سے طالبان کے شکار تک

تصویر کے کاپی رائٹ ap
Image caption نیٹو افواج نے شمسی ائیربیس کو باقاعدگی سےافغانی طالبان اور القاعدہ کے خلاف استعمال کیا

پاکستان نے امریکہ سے کہا ہے کہ وہ پندرہ دن کے اندر بلوچستان کے ضلع واشک میں واقع شمسی ائربیس کو خالی کردے۔ یہ ائر بیس سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں امریکہ کے حوالے کیاگیا تھا۔ امریکہ نے افغانستان میں طالبان پر حملوں کا آغاز شمسی ائربیس سے کیا تھا۔

شمسی ائربیس صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے تین سو بیس کلومیٹردور، جنوب مغربی ضلع واشک میں واقع ہے۔ یہ ائیرپورٹ تقریبا تیس سال قبل سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ممالک کے حکمرانوں نے تعمیر کروایا تھا اور ہر سال گرمیوں کے مو سم میں عرب شیوخ تلور کا شکار کرنے یہاں آیا کرتے تھے۔

لیکن سال دو ہزار ایک میں افغانستان میں طالبان حکومت کو گرانے اور القاعدہ کے خلاف آپریشن شروع کرنے کے لیے پہلی بار امریکی فوج نے شمسی ائربیس کا استعمال شروع کیا۔ جبکہ سال دو ہزار دو میں شمسی ائربیس کے قریب ایک امریکی فوجی طیارہ فنی خرابی کے باعث گر کرتباہ ہوا۔ اس طیارے میں سوار عملے کے تمام اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

سال دوہزار ایک سے سال دوہزار چھ تک امریکی اور نیٹو افواج نے شمسی ائربیس کو باقاعدگی سےافغانی طالبان اور القاعدہ کے خلاف استعمال کیا۔ امریکہ نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پاکستانی طالبان کے خلاف ڈرون حملوں کے لیے بھی شمسی ائربیس کا استعمال کیا۔

اس بات کا انکشاف فروری سال دوہزار نو میں لندن ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ سے ہوا جس میں ایک تصویر میں تین ڈرون طیاروں کو شمسی ائربیس کے رن وے پرکھڑا دکھایا گیا۔

سال دوہزار ایک میں جب اس وقت کے فوجی صدر جنرل پرویز مشرف نے افغانستان میں طالبان کے خلاف شمسی ائربیس اور جیکب آباد ائربیس امریکہ کے حوالے کیے تھے تومختلف مذہبی جماعتوں کی جانب سے بلوچستان اور سندھ میں شدید احتجاج بھی ہوا۔ حتیٰ کہ ضلع خاران میں ہونے والی ایک تقریب پر لوگوں کی جانب سے پتھراؤ بھی کیاگیا جس کے مہمان خصوصی اس وقت کے کورکمانڈر بلوچستان جنرل عبدالقادر قادر بلوچ تھے۔

موجودہ حکومت نے ہمیشہ ڈرو ن حملوں کے لیے شمسی ائربیس کے استعمال کی مخالفت کی ہے ۔

اس سال اپریل میں پاکستان اور امریکہ نے مشترکہ طور پر اعلان کیا تھا کہ شمسی ائربیس سے ڈرون پروازوں کو بند کردیاگیا ہے۔

جبکہ اگلے ماہ یعنی تیرہ مئی کو پارلیمنٹ کے بند اجلاس میں عسکری قیادت نے انکشا ف کیا کہ شمسی ائربیس اس وقت پاکستان کے نہیں بلکہ عرب امارات کے کنٹرول میں ہے۔

یہاں دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ جب سال دوہزار ایک میں پاکستان نے شمسی ائربیس کو امریکہ کے حوالے کیا تھا تواس وقت حکومت نے ائربیس کے قریب مقامی آبادی کو وہاں سے دوسرے مقامات پر منتقل کیا اور وہاں کسی کو جانے کی بھی اجازت نہیں دی جس پر مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں نے کئی بار شدید احتجاج بھی کیا ہے۔