’حملہ ثبوت ہے کہ امریکہ پاکستان کا دوست نہیں‘

طالبان، فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی قیادت کو تسلیم کرتے ہیں۔

تحریک طالبان پاکستان نے کہا ہے کہ پاکستانی چیک پوسٹ پر نیٹو کے حملے نے یہ ثابت کردیا ہے کہ امریکہ کھبی بھی پاکستان کا دوست نہیں ہوسکتا ہے اور پاکستان اس حملے کے بعد طالبان کے موقف کو تسلیم کرلے۔

مہمند ایجنسی میں تحریک طالبان کے کمانڈر عمر خالد کے معاون مکرم خراسانی نے ٹیلی فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان کا پہلے سے یہ موقف تھا کہ امریکہ پاکستان کا دوست نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس حملے کے بعد پاکستان کو چاہئیے کہ وہ امریکہ کے ساتھ تعلقات ختم کرکے طالبان کے راستے کو اپنائے اور خود کو مسلمانوں کی دفاع کے لیے پیش کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ کمانڈر عمر خالد پر یہ الزام بالکل بے بنیاد ہے کہ وہ بھارت کا ایجنٹ ہے۔ ان کے مطابق ’عمر خالد ایک سچا مسلمان ہے ان کا نہ امریکہ سے اور نہ ہی پاکستان کے خفیہ اداروں سے کوئی تعلق رہا ہے اور نہ ہی آئندہ رہے گا‘۔

مُکرم خراسانی کے مطابق اس قسم کے بے بنیاد پروپیگنڈے دشمنی پر مبنی ہیں اگر کسی کے پاس ایسے ثبوت ہے تووہ عوام کے سامنے لائیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہو رہے۔ بقول خراسانی ’پاکستان ایک غلام ملک ہے ایک غلام ملک سے مذاکرات ہمشہ بے معنی رہتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ مذاکرات پر پاکستان کا اپنا اختیار بھی نہیں ہے وہ دوسروں کے اشارے پر چلتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مہمند ایجنسی میں سکیورٹی چیک پر نیٹو کے حملے کے بعد پاکستان نے شمسی ائیر بیس اور نیٹو کے لیے رسد لے جانے والی گاڑیوں کو تو روک دیا ہے لیکن اس قسم کے بندش سے کام نہیں چلےگا۔ پاکستان کو چاہئیے کہ وہ اپنے ایک ایک اہلکار کا بدلہ لے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے جنگجو تمام قبائلی علاقوں میں موجود ہیں اور کھبی کبھار حالات کے مطابق ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں چلے جاتے ہیں اور یہ طالبان کے حکمت عملی کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خلاف ان کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

انہوں یہ بات بھی واضح کی کہ افغان طالبان سے ان کے اچھے تعلقات ہیں پاکستانی طالبان اور افغان طالبان کے درمیان کسی قسم کے اختلافات نہیں ہیں۔ وہ افغان طالبان کے قیادت کو تسلیم کرتے ہیں۔

یادرہے کہ گزشتہ روز مہمند ایجنسی میں افغان سرحد کے قریب نیٹو کے جہازوں نے دو پاکستانی چیک پوسٹوں پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجہ میں چوبیس اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں