’نیٹو حملہ ملکی خودمختاری پر حملہ ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں نیٹو کے حملے میں پاکستان کے چوبیس فوجیوں کی ہلاکت کو وکلاء نے ملکی خودمختاری پر حملہ قرار دیا ہے۔

دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ نواز نے اس حملے کے خلاف مذمتی قرار داد پنجاب اسمبلی میں جمع کرا دی ہے جبکہ متحدہ قومی موومنٹ نے یوم استحکام پاکستان منایا۔

لاہور سے ہمارے نامہ نگار عباد الحق نے بتایا کہ پنجاب میں وکلاء نیٹو حملے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے اور احتجاجی ریلیاں نکالیں۔

پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں ہائی کورٹ بار اور ضلعی بار ایسوسی ایشن کے الگ الگ اجلاس ہوئے۔

لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے اجلاس میں سپریم کورٹ بار کے عہدیداروں نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں وکلاء نے خطاب کرتے ہوئے اس واقعہ کی شدید مذمت کی اور اس کارروائی کو ملکی خود مختاری پر حملہ قرار دیا۔

وکلاء نے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے مطالبہ کیا کہ اس حملے کا منہ توڑ جواب دیا جائے۔

ہائی کورٹ بار کے اجلاس میں ایک قرار داد منظور کی گئی جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ نیٹو فورسز نے پاکستان کی خود مختاری پر حملہ کیا ہے اور اس حملے کے خلاف پاکستان کو انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس سے رجوع کرنا چاہیے۔

اجلاس کے بعد وکلاء نے لاہو رہائی کورٹ کے باہر جی پی او چوک میں ایک احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔

لاہور کی ضلعی بار ایسوسی ایشن کے صدر شہزاد حسن شیخ نے ایک پریس کانفرنس میں یکم دسمبر کو نیٹو فضائی حملے کے خلاف اور پاکستانی فوج کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ایوان عدل سے پنجاب اسمبلی تک ریلی نکالنے کا اعلان کیا۔

کراچی سے ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل نے بتایا کہ سندھ ہائی کورٹ، سٹی کورٹس اور ملیر کورٹ میں وکلاء نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔

وکلاء نے قرار داد کے ذریعے یہ مطالبہ کیا گیا کہ پاکستان فوج سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنائے اور حکومت ملکی سلامتی اور خود مختاری قائم رکھے۔

وکلاء تنظیموں نے امریکہ سے تعاون ختم کرنے اور تمام ایئر بیس فوری خالی کرانے کے بھی مطالبات کیے۔

سپریم کورٹ بار کے صدر یاسین آزاد نے وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان فوج کو یقین دہانی کرائی کہ ملکی سلامتی کے معاملے پر وکلاء ان کے ساتھ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر حکمران ملک کی خود مختاری کی حفاظت نہیں کرسکتے تو انہیں مستٰعفی ہوجانا چاہیے۔

سندھ ہائی کورٹ بار کے صدر اور سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان کا کہنا تھا کہ نیٹو نے پاکستان کی سلامتی پر حملہ کیا ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مغربی ممالک یہ کہتے رہے ہیں کہ ہم جب جو چاہتے ہیں کرلیتے ہیں۔

پشاور ہائی کورٹ بار میں ہونے والے مذمتی اجلاس میں وکلا نے خطاب کرتے ہوئے نٹیو کے فضائی حملے کو ملک کی خودمختاری پر حملہ قرار دیا۔ اجلاس کے بعد وکلاء نے پشاور ہائی کورٹ سے ایک ریلی بھی نکالی۔

تحریک انصاف نے اسلام آباد میں احتجاجی مظاہرہ کیا جبکہ مسلم لیگ قاف اور جمعت علمااسلام فیصل الرحمن گروپ نے پشاور پریس کلب کے باہر الگ الگ مظاہرے کیے اور جماعت اسلامی نے نوشہرہ میں احتجاجی جلسہ کی۔

اسی بارے میں