متنازع مراسلہ: تفتیش پارلیمانی کمیٹی کے سپرد

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

وزیرِ اعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی نے متنازع مراسلے کی تفتیش پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے سپرد کردی ہے۔

وزیر اعظم ہاؤس سے جاری کیے گئے ایک نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی تفتیش کے بعد نتیجہ خیز سفارشات دے گی۔

واضح رہے کہ سابق امریکی کمانڈر مائک مولن کو یہ مراسلہ امریکہ میں مقیم پاکستانی نژاد بزنس مین منصور اعجاز نے بھیجا اور ان کا دعویٰ ہے کہ ایسا انہوں نے امریکہ میں اس وقت کے پاکستانی سفیر حسین حقانی کے کہنے پر کیا۔

ہمارے نامہ نگار اعجاز مہر نے بتایا کہ ابھی یہ معلوم نہیں ہے کہ اس کمیٹی کے دائرہ کار یا ٹرمز آف ریفرنس کیا ہیں اور سفارشات پیش کرنے کی مدت کیا ہو گی۔

کمیٹی کے ایک سرکردہ رکن پروفیسر خورشید احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ کمیٹی پہلے ہی اس معاملے کا نوٹس لے چکی ہے اور سیکریٹری خارجہ اور سیکریٹری دفاع کو بریفنگ کے لیے بلا چکی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ تفتیش کی کمیٹی کو سپردگی کے پیشِ نظر اس کمیٹی کے سربراہ رضا ربانی نے اپنا بیرونِ ملک دورہ منسوخ کر دیا ہے۔

دوسری جانب سپریم کورٹ نے مسلم لیگ نواز کے سربراہ میاں نواز شریف کی جانب سے متنازع خط پر دائر درخواست کو ابتدائی سماعت کے لیے منظور کر لیا ہے۔

اس درخواست میں صدر، وفاق، آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی، حسین حقانی اور منصور اعجاز کو فریق بنایا گیا ہے۔

اسی بارے میں