آفاق احمد کو پھر رہائی نہ مل سکی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایم کیو ایم حقیقی کے سربراہ آفاق احمد کو کئی مقدمات کا سامنا ہے

مہاجر قومی موومنٹ کے سربراہ آفاق احمد کی نظربندی کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔

انہیں منگل کو تمام مقدمات میں ضمانت پر رہائی ملنے کے بعد نقصِ امن کے خدشے کے پیشِ نظر تیس دن کے لیے نظر بند کیا گیا ہے۔

آفاق احمد کی نظر بندی حکومت سندھ کے احکامات کے بعد مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کے تحت عمل میں آئی اور اس کے خلاف فوری طور پر سندھ ہائی کورٹ میں درخواست بھی دائر کر دی گئی ہے۔

منگل کو کراچی میں انسداد دہشتگردی کی عدالت نے آفاق احمد کی رہائی کے احکامات جاری کیے تھے۔

ان پر واٹر بورڈ کے ملازم جمیل بلوچ کے اغوا اور تشدد کے مقدمے میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔انسداد دہشتگردی کی عدالت کی جج خالدہ یاسمین کی روبرو آفاق احمد کے وکیل نے دلائل دیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے موکل پر یہ جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا ہے اور جس وقت یہ واقعہ ہوا اس وقت وہ جیل میں تھے۔

عدالت نے ان کے دلائل سننے کے بعد پانچ لاکھ رپے کے ذاتی مچلکے کی ضمانت پر رہائی کا حکم جاری کیا تھا اور یہ مچلکے منگل کو عدالت میں جمع کروا دیے گئے تھے۔

یاد رہے کہ واٹر بورڈ کے ملازم جمیل بلوچ کو سنہ 2001 میں تاوان کے لیے اغوا کیا گیا تھا اور مدعی کا کہنا تھا کہ اغوا کاروں نے دوران گفتگو کہا تھا کہ ’آفاق بھائی کا بھی یہ ہی حکم ہے‛۔

پولیس نے انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج کو بتایا تھا کہ آفاق احمد کے خلاف اس مقدمے میں شواہد نہیں ملے مگر عدالت نے پولیس کا موقف مسترد کرتے ہوئے آفاق احمد کا نام اس مقدمے میں شامل کرنے کی ہدایت کی تھی، جس کے بعد یہ مقدمہ التوا کا شکار رہا۔

گزشتہ دنوں جب آفاق احمد تمام مقدمات سے بری کر دیے گئے تو صوبائی حکومت نے عدالت کو بتایا کہ ان پر جمیل بلوچ کے اغوا کا مقدمہ زیر سماعت ہے۔

دوسری جانب سندھ ہائی کورٹ میں آفاق احمد کی زندگی کو لاحق خطرات کے بارے درخواست کی سماعت ہوئی، جس دوران چیف جسٹس مشیر عالم نے آئی جی سندھ اور ڈی جی رینجرز کو ہدایت کی کہ آفاق احمد کو مکمل سکیورٹی فراہم کی جائے۔ آئین کے تحت یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ہر شہری کی جان اور مال کا تحفظ کرے۔

دریں اثنا آفاق احمد نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے موقف کی وہ بھرپور تائید کرتے ہیں، جب بھی موقعہ ملا وہ ان سے ملاقات کریں گے۔

کراچی کی سیاست میں اپنی گنجائش کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ آنے والا وقت ثابت کرے گا۔ آفاق کے مطابق حکومت نے اپنی اتحادی جماعت کے دباؤ میں انہیں دوبارہ قید رکھنے کی کوشش کی تو وہ عدالت سے رجوع کریں گے۔

اسی بارے میں