پاکستان:بی بی سی ورلڈ کی نشریات نہ دکھانےکا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption بی بی سی نے پاکستانی اداروں کے خلاف دستاویزی فلم نشر کی جس کے بعد بی بی سی کی نشریات کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا: کیبل آپریٹر ایسوسی ایشن

پاکستان میں کیبل ٹی وی آپریٹرز نے پاکستان اور پاکستانی افواج کی ’منفی‘ تشہیر کرنے پر بی بی سی ورلڈ کی نشریات نہ دکھانے کا اعلان کیا ہے۔

ادھر بی بی سی نے نشریات کی فوری بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام باعثِ تشویش ہے۔

بی بی سی ورلڈ کی نشریات نہ دکھانے کا اعلان منگل کو پاکستان کے کیبل آپریٹرز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

تنظیم کے چیئرمین خالد آرائیں نے الزام لگایا کہ عالمی میڈیا پاکستان اور پاکستانی افواج کے بارے میں منفی تشہیر کر رہا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں بی بی سی ورلڈ کی نشریات پاکستان میں کیبل پر بند کی جا رہی ہیں۔

کیپل آپریٹرز ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر ملک فرقان غیاث کے بقول بی بی سی نے پاکستانی اداروں کے خلاف دستاویزی فلم نشر کی جس کے بعد بی بی سی کی نشریات کو پاکستان میں بند کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔

ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ بی بی سی کی نشریات پاکستان میں بند کرنے کے فیصلے پر علمدرآمد کا آغاز اسلام آباد سے کیا گیا ہے اور بدھ کی دوپہر بارہ بجے تک پورے ملک میں بی بی سی کی نشریات بند ہو جائیں گی۔

تنظیم کے چیئرمین خالد آرائیں نے کہا کہ بی بی سی کی دستاویزی فلم کے بعد حکومت کو اس پر کارروائی کرنی چاہیے تھی لیکن حکومت کی طرف سے کوئی نوٹس نہ لینے پر کیبل آپریٹرز نے بی بی سی کی نشریات کو بند کرنے کا فیصلہ کیا۔

اس اعلان پر بی بی سی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ ہم کسی بھی ایسے اقدام کی مذمت کرتے ہیں جو ہماری ادارتی آزادی کے لیے خطرہ بنے اور ناظرین کو ہماری غیرجانبدارانہ بین الاقوامی نیوز سروس تک رسائی سے روکے‘۔

ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ بی بی سی ورلڈ نیوزاور دیگر بین الاقوامی نیوز سروسز (کی نشریات) کو فوری طور پر بحال کیا جائے‘۔

کیبل آپریٹرز ایسوسی ایشن کے عہدیدراوں نے عالمی نیوز چینلز کو بھی خبردار کیا کہ وہ پاکستان اور پاکستانی افواج کے متعلق ’منفی‘ تشہیر بند کریں اور اگر انہوں نے اپنی روش نہ بدلی تو تمام عالمی نیوز چینلز کیبل پر بند کر دیے جائیں گے۔

خالد آرائیں نے حکومت سے یہ مطالبہ کیا کہ عالمی نیوز چینلز کے لینڈنگ رائٹس ختم کیے جائیں کیونکہ بقول ان کے یہ پاکستان کی سالمیت کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبے پر عمل نہ کیا تو اس پر ان کی تنظیم احتجاج کرے گی۔

تنظیم کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج کے خلاف کچھ سننے کو تیار نہیں اور پاکستانی میڈیا کو چاہیے کہ وہ قومی سلامتی کے حساس اداروں کے خلاف رویے کا مؤثر جواب دے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے میڈیا ٹرائل پر مشتمل دستاویزی پروگراموں کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔

اسی بارے میں