متنازعہ خط مقدمے کی سماعت یکم دسمبر سے

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نو رکنی بینچ کی سربراہی کریں گے

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے امریکی حکام کو لکھےگئے متنازعہ خط سے متعلق دائر کی جانے والی آئینی درخواست پر نو رکنی بینچ تشکیل دے دیا ہے جو یکم دسمبر سے اس درخواست کی سماعت کرے گا۔

اس بینچ کی سربراہی چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کریں گے جبکہ اس بینچ کے دیگر ارکان میں جسٹس میاں شاکراللہ جان، جسٹس تصدق حسین جیلانی، جسٹس جواد ایس خواجہ، جسٹس طارق پرویز، جسٹس میاں ثاقب نثار، جسٹس امیر ہانی مسلم، جسٹس اعجاز افضل خان اور جسٹس اعجاز احمد چوہدری شامل ہیں۔

یہ درخواست قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نون کے صدر میاں نواز شریف نے دائر کر رکھی ہے۔

سپریم کورٹ نے اٹھائیس نومبر کو یہ درخواست سماعت کے لیے منظور کرلی تھی جسں میں وفاق کے علاوہ صدر آصف علی زرداری، بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی، انٹرسروسز انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا، سیکرٹری خارجہ، امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی اور پاکستانی نژاد امریکی شہری منصور اعجاز کو فریق بنایا گیا ہے۔

اس آئینی درخواست میں پاکستانی نژاد امریکی تاجر منصور اعجاز کے اس اخباری مضمون کا ذکر کیاگیا ہے جس میں یہ الزام لگایا تھا کہ+ پاکستان کے ایک اعلیٰ سفارتکار نے اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے ایک ہفتے بعد خفیہ ذرائع سے اس وقت کے امریکی فوج کے اعلیٰ ترین عہدیدار کو ایک مراسلہ بھجوایا تھا۔ اس مراسلے میں پاکستانی حکومت کا تختہ الٹنے کے ممکنہ فوجی اقدام کے خطرے کے خلاف امریکی حکومت سے مدد طلب کی گئی تھی

منگل کے روز میاں نواز شریف کی جانب سے ایک اور درخواست دائر کی گئی تھی جس میں استدعا کی گئی تھی کہ اس درخواست کی فوری سماعت کے لیے بینچ تشکیل دیا جائے۔ اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ ایک مرتبہ پھر ملکی سالمیت پر حملہ کیا گیا اور نیٹو فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کی وجہ سے چھبیس فوج کے نوجوانوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔