’جیل اصلاحات پر عمل نہیں ہو رہا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان میں غیرمصدقہ اعدادوشمار کے مطابق قیدیوں کی تعداد نوے ہزار سے زائد ہے

پاکستان کے خفیہ اداروں نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ملک میں جیل اصلاحات پر عمل درآمد نہ ہونے سے نہ صرف سنگین جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ جیل کے اندر بھی غیر اخلاقی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔

ان اصلاحات میں ایک بات یہ بھی رکھی گئی تھی کہ معمولی جرائم میں ملوث افراد کو جرائم پیشہ اور شدت پسندی کی وارداتوں میں ملوث افراد کے ساتھ نہیں رکھا جائے گا۔

اس کے علاوہ ان افراد کو معاشرے کا مفید فرد بنانے کے لیے ملک کی سماجی شخصیات کو جیلوں کا دورہ کرنے کے بارے میں بھی کہا گیا تھا لیکن اس پر بھی عمل درآمد نہیں ہو رہا۔

وزارتِ داخلہ کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے پر بھی عمل درآمد نہیں ہو رہا۔

اس فیصلے میں عدالت نے حکومت اور متعقلہ حکام سے کہا تھا کہ ایسے قیدیوں کو ان کی بیویوں سے علیحدگی میں ملاقات کے لیے انتظامات کیے جائیں تاکہ وہ حقوقِ زوجیت ادا کر سکیں۔

ذرائع کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صرف پشاور اور کراچی کی سینٹرل جیل میں ایسے قیدیوں کے لیے اپنی بیویوں سے تنہائی میں ملنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔ تاہم ان پر بھی صیح طریقے سے عمل درآمد نہیں ہو رہا اور جیل حکام مبینہ طور پر صرف بااثر قیدیوں کو ہی اپنی شریکِ حیات کے ساتھ تنہائی میں ملنے کی اجازت دیتے ہیں۔

راولپنڈی اڈیالہ جیل کے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ جیل میں قیدیوں کی اپنی بیویوں سے ملاقات کے لیے کوئی الگ جگہ نہیں بنائی گئی جبکہ جیل کے ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ کے کمرے میں قیدی اور اس کی بیوی کی ملاقات کروائی جاتی ہے۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ اس کے برعکس سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے مجرم ممتاز قادری کے اہلِ خانہ ان کے ساتھ اس کمرے میں ہی ملاقات کرتے ہیں جہاں انہیں قید کیا گیا تھا۔

ممتاز قادری کے حق میں ہونے والے مظاہروں اور نقصِ امن کے خدشے کے پیشِ نظر جیل انتظامیہ نے انہیں فیصل آباد جیل منتقل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم ان کے عزیزو اقارب کی جانب سے دی جانے والی درخواست کے بعد یہ معاملہ وقتی طور پر موخر کردیا گیا ہے۔

خفیہ اداروں کی جانب سے بھیجی جانے والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جیل اصلاحات اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے مردوں کے درمیان جنسی تعلقات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق جن جیلوں میں ایسے واقعات ہو رہے ہیں ان میں صوبہ سندھ پہلے جبکہ پنجاب کی جیلیں دوسرے نمبر پر ہیں۔

ملک کی مخلتف جیلوں میں قیدیوں نے بھی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو خطوط بھی لکھے ہیں کہ جیل اصلاحات اور وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد کروایا جائے۔

قیدیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم گلوبل فاؤنڈیشن کے صدر الفت کاظمی کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک بھرکی نواسی جیلوں میں کم عمر حوالاتیوں کی فلاح و بہبود کے لیے ابھی تک کوئی خاطر خواہ انتظامات نہیں کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ معمولی جرائم میں ملوث افراد میں سے اکثریت کا تعلق غریب گھرانوں سے ہونے کی وجہ سے ان کی ضمانتیں نہیں ہو پاتیں جس کی وجہ سے وہ جیل میں قید سنگین جرائم میں ملوث افراد کے ساتھ مل جاتے ہیں اور رہائی کے بعد جرائم پیشہ گینگ میں شامل ہو جاتے ہیں جو ملک میں جرائم کی شرح میں اضافے کا باعث ہے۔

یاد رہے کہ اس وقت پنجاب میں بتیس، صوبہ خیبر پختونخوا میں اکیس، صوبہ سندھ میں سترہ، پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں چھ جبکہ شمالی علاقہ جات میں تین جیلیں ہیں اور ان میں غیر مصدقہ اعدادوشمار کے مطابق قیدیوں کی تعداد نوے ہزار سے زیادہ ہے۔

اسی بارے میں