سندھ: جی ایس ٹی کی وصولی کا اختیار واپس

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ساتویں قومی مالیاتی ایورڈ میں جنرل سیلز ٹیکس کی وصولی کے اختیارات صوبوں کو حوالے کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا

حکومتِ سندھ نے وفاقی حکومت پر ساتویں مالیاتی ایوارڈ سے انحراف کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے سے جنرل سیلز ٹیکس کی وصولی کا اختیار واپس لینے کی کوشش کی جارہی ہے جو اٹھارویں آئینی ترمیم کے منافی ہے۔

قومی مالیاتی ایوارڈ میں سندھ کے نمائندے قیصر بنگالی نے بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ جنرل سیلز ٹیکس ایک صوبائی ٹیکس ہے جو سیاسی وجوہات کی بناء پر وفاق کے حوالے کیا گیا تھا۔

ان کے مطابق اس ٹیکس کی وصولی سندھ میں زیادہ ہوتی ہے جبکہ تقسیم آبادی کی بنیاد پر کی جاتی ہے، لہٰذا پنجاب کا حصہ زیادہ بن جاتا ہے۔

واضح رہے کہ ساتویں قومی مالیاتی ایورڈ میں جنرل سیلز ٹیکس کی وصولی کے اختیارات صوبوں کو حوالے کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

قیصر بنگالی کے مطابق جب اس ایوارڈ کا صدارتی حکم جاری ہوا تو اس میں سے یہ شق غائب تھی جس پر وزیر اعلیٰ سندھ نے صدر اور وزیرِاعظم سے رابطہ کیا جس کے بعد حکم نامہ درست کر کے دوبارہ جاری کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ ساتویں این ایف سی ایورڈ میں سندھ نے جنرل سیلز ٹیکس خود وصول کرنے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ دیگر تین صوبوں نے اس ٹیکس کی وصولی کا اختیار ایف بی آر کو دے دیا تھا۔

’جنرل سیلز ٹیکس کی وصولی کے لیے سندھ ریونیو بورڈ تشکیل دیا گیا، جس نےگزشتہ پانچ ماہ میں نو ارب روپے جمع کیے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو جو رقم سندھ کو دیتا تھا یہ رقم اُس سے پچاس فیصد زیادہ ہے جس سے یہ تاثر بھی زائل ہوگیا کہ صوبوں میں ٹیکس وصول کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔‘

قومی مالیاتی ایوارڈ کے نمائندے کے مطابق اکیس نومبر کو آٹھویں این ایف سی ایورڈ کے لیے وفاقی وزراتِ خزانہ نے میٹنگ رکھی تھی جس کے ایجنڈے میں جنرل سیلز ٹیکس کو دوبارہ شامل کیا گیا اور کہا گیا کہ اسے دوبارہ ایف بی آر کے حوالے کیا جائے حالانکہ یہ معاملہ پہلے ہی طے شدہ ہے لہذا اسے دوبارہ ایجنڈے میں شامل کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے مالیاتی ایوارڈ کے مذاکرات کے دوران یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ سیلز ٹیکس کی وصولی کے بعد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کردی جائی گی۔

بجٹ کے بعد جاری ہونے والے فائنانس بل میں بھی یہ ہی اعلان کیا گیا تھا اور ایف بی آر کی ویب سائٹ پر بھی یہ موجود ہے مگر اس ڈیوٹی کی ممانیت کا نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے آج تک فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی وصول کی جا رہی ہے۔

پاکستان میں مالی وسائل کی تقسیم کا فیصلہ قومی مالیاتی ایوارڈ کمیشن میں کیا جاتا ہے اور ایک عرصے کے بعد چاروں صوبوں کے اتفاقِ رائے سے ساتویں مالیاتی ایورڈ کو منظور کیا گیا تھا اور موجودہ حکومت اسے اپنی ایک اہم کامیابی قرار دیتی ہے۔

قیصر بنگالی نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاھ نے وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کو باضابطہ خط لکھ کر وفاقی وزراتِ خزانہ کے منحرفانہ اقدام پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ یعنی آئی ایم ایف کی یہ شرط نہیں تھی کہ جی ایس ٹی وفاقی حکومت وصول کرے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی وزرات خزانہ نے انہیں بتایا تھا کہ وہ اس کے ذریعے ٹیکس کا دائرہ بڑھائیں گے لیکن اب تو پاکستان آئی ایم ایف کے پروگرام میں بھی شامل نہیں ہے اس لیے یہ تاثر غلط ہے کہ آئی ایم ایف اس بارے میں بضد ہے۔

اسی بارے میں