اِب کے مار

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نیٹو کےحملے کے جواب میں مذہبی جماعتوں کے قائدین فوج کو بتاتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو تنہا نہ سمجھے

کبھی کبھی لگتا ہے کہ ہمارے حکمراں حضرات یسوع مسیح کی اس بات کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں کہ اگر کوئی تھپڑ مارے تو دوسرا گال آگے کردو۔ یا شاید اندر سے گاندھی جی کے بھگت ہیں اور بات پر یقین رکھتے ہیں کہ آگر آنکھ کا بدلہ آنکھ ہو تو پوری دنیا اندھی ہو جائے گی۔

کیونکہ نیٹو کےسفاک حملے کے جواب میں یہ عدم تشدد کے دائرے میں رہتے ہوئے مذمت کرتے ہیں، میٹنگیں بلاتے ہیں، قومی یکجہتی کا پھریرا لہراتے ہیں، میڈم نور جہاں کے گائے ہوئے جنگی ترانے بجاتے ہیں سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین فوج کو بتاتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو تنہا نہ سمجھے، پچاس روپے کا امریکی جھنڈا خرید کر اس کو آگ لگاتے ہیں، فوٹو بنواتے ہیں، نعرہ لگاتے ہیں کہ امریکہ کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے۔

اور پھر گھر واپس جانے سے پہلے منہ پر ہاتھ پھیر کر دھمکی دیتے ہیں کہ اب کے مار کے دیکھ۔ لطیفہ اتنا پرانا ہے کہ اب بچے بھی اِس پر نہیں ہنستے۔ طاقتور کمزور کی پٹائی کرتا ہے، کمزور ہر دفع مار کھانے کے بعد پلٹ کے کہتا ہے اِب کے مار۔

طاقتور پھر مارتا ہے۔

’اِب کے مار‘ چاہے چیخ کر، ہاتھ ہلا ہلا کر کیا جائے، یا شائستہ لہجے میں اس کا مطلب وہی رہتا ہے۔ پاکستان کے ساتھ ایک اضافی مسئلہ یہ بھی ہے کہ مارنے والے اتحادی بھی ہیں اور دوست بھی۔

جب ہم امریکہ کے یاروں کو غدار کہتے ہیں تو کیا اپنے ہی ملک کے تمام فوجی حکمرانوں اور زیادہ تر سیاستدانوں پر تہمت نہیں لگا رہے ہوتے؟

کیا ہماری امریکہ سے پرانی یاری نہیں ہے جو کچھ عرصے کے بعد تڑک کر توٹنے لگتی ہے لیکن کسی طرح سے بچ جاتی ہے؟

کیا افغانستان کے طالبان سے ہماری پرانی دوستی نہیں ہے۔ کیا ہماری قومی دفاعی پالیسی کا محور یہ خوش فہمی نہیں ہے کہ ہمارے تعلقات میں جو تھوڑی سی بدمزگی ہے وہ جلد دور ہوگی اور پاکستان طالبان پھر گلے مل جائیں گے؟

باقی رہی افغانستان کی ٹیسٹ ٹیوب حکومت تو ہم دل میں ان کے خلاف جتنا بھی بغض رکھتے ہوں، ہمارے بڑے جتنی ملاقاتیں افغان رہنماؤں سے کرتے ہیں شاید ہی کسی دوسری ہمسائے سے کرتے ہوں۔

نیٹو حملے میں پاکستان کے جو فوجی شہید ہوئے وہ وہاں پر ہماری سرحد کی حفاظت کے لئے بیٹھے یا ہمارے اِن دوستوں کی حفاظت کے لیے؟ اور اگر یہ حملہ دو گھنٹے جاری رہا تو ہماری باقی فوج یا فضائیہ ان کی مدد کو کیوں نہیں آئی۔ کیا ہمارے باقی قومی اداروں کی طرح کیا فوج کو بھی بیل آوٹ پیکج کی ضرورت ہے؟ کیا جو ریلوے اور پی آئی اے کے ساتھ جو ہوا وہی مسلح افواج کے ساتھ بھی ہو رہا ہے۔

پی آئی اے اور ریلوے میں جہاز موجود ہیں، ٹرینیں بھی کھڑی ہیں، لوگ دفتر میں بھی آتے ہیں، بڑی بڑی بلڈنگیں اور ہاؤسنگ کالونیاں بھی موجود ہیں، اگر کوئی چیز نہیں ہے تو وہ اس بات کی ضمانت نہیں ہے کہ یہ ہمیں منزل تک پہنچا سکیں۔ خاکم بدہن، کیا فوج کے ترانے گانے والی یہ قوم اس بات کی آس بھی چھوڑ دے کہ فوج اسے منزل تک پہنچائے گی؟

اور اگر اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے تو کیا ہم صرف اتنا کرسکتے ہیں کہ اگلی بار جب ایک سفاک دوست ہمیں مارے تو ہم ’اب کے مار‘ کا راگ الاپنے کی بجائے اسے خدا حافظ کہیں اور آئندہ دوست بنانے سے پہلے گھر والوں سے مشورہ کریں۔