بات سنی نہیں گئی

Image caption پاکستان میں بی بی سی ورلڈ کی نشریات کیبل پر نہیں دکھائی جا رہیں

کچھ عرصے پہلے بی بی سی ٹیلی ویژن سے ’سیکرٹ پاکستان، ڈبل کراس‘ کے عنوان سے دوگھنٹے کی ایک تحقیقی دستاویزی فلم دو قسطوں میں ٹیلی کاسٹ ہوئی۔

اس فلم کا موضوع یہ تاثر ہے کہ کس طرح گذشتہ دس برس سے پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی افغان بحران کے تعلق سے دوہری پالیسی اپناتے ہوئے بیک وقت شکاری اور خرگوش کے ساتھ دوڑ رہے ہیں۔

ایک جانب وہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مغرب کے حلیف بھی ہیں اور دوسری جانب افغان طالبان کو بھی چھوٹ دے رکھی ہے۔ فلم میں ان اسباب کا جائزہ لینے کی بھی کوشش کی گئی کہ مغرب اور پاکستان افغانستان کے سلسلے میں ایک دوسرے سے بدگُمان کیوں ہیں؟

اس فلم میں چونتیس امریکی، برطانوی، افغان، پاکستانی عہدیداروں اور شخصیات سے انٹرویو کیے گئے ہیں جبکہ اقوامِ متحدہ کے ایک اہلکار کو بھی شامل گیا ہے۔

امریکی شخصیات میں افغانستان میں اتحادی افواج کے دو سابق کمان دار جنرل ڈان میکنیل، جنرل ڈیوڈ بارنو، سابق نائب وزیرِ دفاع میری بیتھ لونگ، محکمہ خارجہ کے سابق اہلکار ولی ناصر، امریکی نائب صدر کے سابق معاون مائک والٹز، سی آئی اے کے سابق اعلی عہدیدار بروس ریڈل، بوب گرینئر، گیری برانسن، فلپ مڈ، امریکی انٹیلی جینس کے سابق کرنل ٹونی شیفر، مشرقی افغانستان میں خدمات انجام دینے والے امریکی فوج کے دو سابق کپتان اینڈریو ایکسم اور ایڈ ون چرچل اور افغانستان میں نو ماہ تک اغوا رہنے والے نیویارک ٹائمز کے صحافی ڈیوڈ رہوڈز سے بات چیت شامل ہے۔

فلم میں جن پانچ برطانویوں سے گفتگو شامل ہے ان میں خصوصی ایلچی برائے افغانستان و پاکستان مارک سیڈ ول، کابل میں برطانیہ کے سابق سفیر شیرارڈ کوپر کولز، سابق اعلی برطانوی انٹیلی جینس اہلکار کرنل رچرڈ کیمپ، لیفٹننٹ سمن بیڈفورڈ اور صحافی کرسٹینا لیمب شامل ہیں۔ جبکہ افغانستان میں دو دہائیوں تک اقوامِ متحدہ کے لئے خدمات انجام دینے والے سابق اہلکار مائیکل سیمپل سے بھی بات چیت کی گئی ہے۔

تین طالبان کمانڈرز سے تفصیلی گفتگو بھی کی گئی۔ تینوں نے اپنے چہرے ڈھانپ رکھے ہیں کیونکہ وہ اب بھی سرگرم ہیں۔ ان میں ملا قسیم، کمانڈر نجیب اور ملا عزیز اللہ شامل ہیں اور فلم کے کمنٹیٹر کے مطابق یہ ان کے اصل نام نہیں کیونکہ طالبان اپنی شناخت پوشیدہ رکھنے کے لیے کئی کئی ناموں کے ساتھ بوجوہ آپریٹ کرتے ہیں۔ صرف پاکستان میں طالبان کے سابق سفیر ملا ضعیف نے کھلے چہرے کے ساتھ بات کی ۔

فلم میں جن افغان اہلکاروں کے انٹرویوز شامل ہیں ان میں افغان سیکرٹ سروس کے سابق سربراہ امر اللہ صالح، سابق جنگجو سردارحاجی قدیر، خاتون اہلکار حوا نورستانی اور کابل میں بھارتی سفارتخانے پر حملے کے ایک عینی گواہ دوکاندار احمد جواد بھی ہیں۔

جن پاکستانی شخصیات سے اس موضوع پر بات کی گئی ان میں بری فوج کے ایک سابق سربراہ اسلم بیگ، آئی ایس آئی کے دو سابق سربراہان حمید گل اور جاوید اشرف قاضی، قومی سلامتی کے سابق مشیر محمود درانی، فوج کے موجودہ ترجمان میجر جنرل اطہر عباس، وزیرستان میں خدمات انجام دینے والے سابق بریگیڈیر داؤد راجپوت، کراچی پولیس کے ایک اعلی اہلکار فیاض خان اور پاکستان بار کونسل کے سابق نائب صدر لطیف آفریدی ایڈوکیٹ شامل ہیں۔

اتنی اعلٰی اور ذمہ دار پاکستانی شخصیات کی شمولیت کے باوجود جب ’سیکرٹ پاکستان‘ کچھ عرصہ قبل بی بی سی سے ٹیلی کاسٹ ہوئی تو پاکستانی فوجی اور انٹیلی جینس ذرائع نے فلم سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے اس کی مذمت کی اور بات بظاہر آئی گئی ہوگئی۔

لیکن انتیس نومبر کو پاکستان کیبل ایسوسی ایشن نے اچانک بی بی سی ٹیلی ویژن کی نشریات کا یہ کہہ کر بائیکاٹ کر دیا کہ چونکہ حکومت نے پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف بی بی سی کے ’بے بنیاد پروپیگنڈے‘ کا نوٹس نہیں لیا لہٰذا کیبل آپریٹرز ازخود بی بی سی کا بائیکاٹ کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

بظاہر یہ بات ہضم کرنا آسان نہیں کہ کیبل آپریٹرز نے ازخود اس اقدام کا فیصلہ کیا ہو۔ اگر اس کا تعلق نیٹو افواج کی حالیہ کاروائی میں چوبیس پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کے معاملے اور اس سے جڑے قومی جذبات سے ہے تو یہ معاملہ حکومتِ پاکستان، افغانستان، نیٹو اور امریکہ کے مابین رہنا چاہیے تھا۔ اس میں بی بی سی کو پہلے سے نشر شدہ ایک دستاویزی فلم کی بنیاد پر اب جا کے گھسیٹنا بندر کی بلا طویلے کے سر ڈالنے کے مصداق ہے۔

گو کسی بھی ملکی وغیر ملکی چینل کی نشریات بلا ٹھوس جواز اپنی پسند و ناپسند کے مطابق بند کرنے کا اقدام ایک ناپسندیدہ عمل ہے۔ لیکن یہ بات عجیب سی لگتی ہے کہ بین الاقوامی نشریاتی ادارے جن میں الجزیرہ، سی این این، فوکس، وائس آف امریکہ اور متعدد چینلز شامل ہیں ان میں سے صرف ایک ایسے ادارے کے چینل پر نزلہ گرا جس کی نشریات ہر تیسرا پاکستانی آج سے نہیں گذشتہ چونسٹھ برس سے بغور اور دلچسپی کے ساتھ سن رہا ہے اور جس کا کسی بھی حکومت سے نہ لینا ایک نا لینا دو ہے۔

جس دستاویزی فلم کے نشر ہونے کے ایک عرصے بعد بی بی سی ٹیلی ویژن کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا گیا ہے اُس کے مواد سے اتفاق و اختلاف اپنی جگہ لیکن اس میں بظاہر کوئی بھی ایسی نئی بات نہیں جو پاکستانی چینلز پر بار بار زیرِ بحث نہ آچکی ہو۔

ویسے آج کی دنیا صرف کیبل ٹی وی کی مرہونِ منت نہیں رہی۔ انٹرنیٹ کی پیدائش کے بعد یو ٹیوب اور فیس بک جیسے سوشل میڈیا آؤٹ لٹس کی موجودگی میں کسی بھی طرح کے مواد کو روکنا تقریباً ناممکن ہے۔ چنانچہ آج کے زمانے میں پرانے انداز کی پابندی نقصان سے زیادہ اکثر فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔ اگر کسی فلم کو پہلے دس ناظرین نے دیکھا ہو تو پابندی کے بعد نوے مزید صرف اس شوق میں دیکھ لیتے ہیں کہ دیکھیں تو سہی اِس میں ایسا کیا ہے؟

فی زمانہ اختلاف و ناپسندیدگی ظاہر کرنے کا موثر طریقہ نشریات کی معطلی یا شتّر مرغ کی طرح ریت میں سر دبانا نہیں بلکہ اس کا واحد حل ڈائیلاگ اور اپنے نقطہء نظر کی بصری، سماعی و تحریری وضاحت ہے لیکن وہ جو جون ایلیا کہہ گئے ہیں کہ

ایک ہی حادثہ تو ہے اور وہ یہ کہ آج تک

بات کہی نہیں گئی ، بات سنی نہیں گئی

اسی بارے میں