امریکی امدادی کارکن القاعدہ کا مغوی: الظواہری

تصویر کے کاپی رائٹ AP

القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری نے کہا ہے کہ پاکستان سے چند ماہ قبل اغوا ہونے والا امریکی امدادی کارکن ان کے قبضے میں ہے۔ انہوں نے واران وائن سٹائن کی رہائی کے بدلے پاکستان اور افغانستان، صومالیہ اور یمن میں امریکی فضائی حملے بند کروانے اور کئی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

تیس منٹ کے ایک ویڈیو پیغام میں ایمن الظوہری نے کہا ہے واران وائن سٹائن کو اس شرط پر رہا کیا جائے گا کہ امریکہ افغانستان اور پاکستان میں فضائی حملے بند کرے اور اسامہ بن لادن کے رشتہ داروں سمیت دنیا بھر سے گرفتار کیے گئے کئی قیدیوں کو رہا کر دے۔

مغوی امریکی شہری بازیاب نہیں ہو سکے

امریکی حکام نے اس حوالے سے کوئی بیان نہیں دیا تھا کہ واران کس کے قبضے میں ہو سکتے ہیں۔

ستر سالہ واران وائن سٹائن ایک امریکی امدادی تنظیم کے لیے کام کرتے ہیں اور وہ پانچ سال سے پاکستان میں مقیم ہیں انہیں تین ماہ قبل لاہور سے اغوا کیا گیا تھا۔

ایمن الظواہری نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’بالکل اسی طرح جیسے امریکی جِسے چاہے القاعدہ یا طالبان سے تعلق کے شبے میں قید کر لیتے ہیں حتٰی کے معمولی شک میں بھی، ہم نے بھی ان کے آدمی کو قید کر لیا ہے جو پاکستان میں انیس سو ستّرسے امریکی امداد کے لیے کام کر رہا ہے۔‘

ایمن الظواہری نے اپنے پیغام میں مطالبہ کیا ہے کہ امریکہ صومالیہ اور یمن میں بھی فضائی حملے بند کرے۔ انہوں نے امریکہ کے اس دعوے کی بھی تصدیق کی جس کے مطابق اگست میں ان کے لیبیائی نائب عطیہ عبدالرحمن کو پاکستان کے قبائلی علاقے میں ایک فضائی حملے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔

ویڈیو پیغام میں القاعدہ کے رہنما نے وائن سٹائن کے خاندان سے مخاطب ہو کر کہا کہ وہ ایسے کسی بھی امریکی دعوے پر یقین نہ کریں جس کے مطابق وائن سٹائن کی رہائی کی کوشش کی جا رہی ہیں۔

اگست میں وائن سٹائن کے اغوا کے چند دن بعد لاہور پولیس نے کہا تھا کہ انہیں آزاد کر دیا گیا ہے تاہم بعد میں اس بیان کی تردید کر دی گئی تھی۔

اسی بارے میں