سپریم کورٹ پر ’حملے‘ سے دلائل تک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان مسلم لیگ نون کےصدر میاں نواز شریف امریکی فوج کی ہائی کمان کو لکھے جانے والے مبینہ خط کےخلاف دائر کی جانے والی درخواست کی پیروی کے لیے جب سپریم کورٹ پہنچے تو اُنہوں نے کالا کورٹ اور کالی ٹائی پہن رکھی تھی اور بڑے سنجیدہ دکھائی دے رہے تھے۔

کمرہ عدالت کے باہر سیکورٹی کے سخت اقدامات کیےگئے تھے اور اُن کے ساتھ آنے والے سیکورٹی کے اہلکاروں کو کمرہ عدالت کے باہر ہی روک لیا گیا۔

سپریم کورٹ کے کمرہ نمبر ایک کی اگلی نشستوں پر میاں نواز شریف، وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور دیگر لیگی رہنما موجود تھے۔

کمرہ عدالت میں سپریم کورٹ کے اہلکار کی جانب سے جب درخواست گُزار میاں نواز شریف کا نام پکارا گیا تو وہ خود ہی روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ اُن کے وکیل فخرالدین جی ابراہیم چونکہ بیمار ہیں اس لیے وہ خود ہی دلائل دیں گے۔

نواز شریف نے کہا کہ جب عدلیہ کو سابق فوجی آمر نے گھروں میں بند کر دیا تھا تو اُنہوں نے عوام کے ساتھ مل کر عدلیہ کی آزادی کے لیے جدوجہد کی۔ جس پر چیف جسٹس نے اُن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے دلائل درخواست تک ہی محدود رکھیں اور کوئی سیاسی بیان نہ دیں ۔

بینچ میں شامل جسٹس جواد ایس خواجہ نے میاں نواز شریف سے پہلا سوال ہی یہ کیا کہ وہ اس معاملے کو پارلیمنٹ میں لےکر کیوں نہیں گئے؟

نواز شریف نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ با اختیار ہوتی تو ارکان پارلیمنمٹ حتیٰ کہ حکومتی وزراء بھی سپریم کورٹ کا رخ نہ کرتے۔

نواز شریف نے کہا کہ سپریم کورٹ بھی اس میمو کے معاملے میں احکامات جاری کرے کیونکہ عدالتی مداخلت کے بغیر شہادتیں حاصل نہیں کی جاسکتیں۔

بینچ میں شامل جسٹس جواد ایس خواجہ نے نواز شریف سے کہا کہ اس خط کا معاملہ ابھی تک مفروضوں پر مبنی ہے، اور اگر آپ کے پاس شواہد ہیں تو وہ عدالت میں پیش کریں۔

میاں نواز شریف کچھ دیر کے لیے خاموش کھڑے رہے اور پھر اُن کا کہنا تھا کہ اس درخواست میں بنائے گئے فریقوں کو عدالت میں طلب کیا جائے تو حقائق سب کے سامنے آجائیں گے۔

مختصر دلائل دینے کے بعد میاں نواز شریف اپنی نشست پر بیٹھ گئے۔ اس ضمن میں دیگر درخواست گُزاروں کے وکلاء کے دلائل کو بھی سُنا اور سپریم کورٹ کی طرف سے ان درخواستوں کی منظوری کے بعد نواز شریف واپس چلے گئے اور اُنہوں نے میڈیا کے نمائندوں سے کوئی بات نہیں کی۔