طالبان اور امن لشکر میں جھڑپیں، چار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یہ حملہ ملک دین خیل کے علاقے نالہ میں کیا گیا

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ دو مختلف واقعات میں طالبان مخالف امن لشکر اور شدت پسند تنظیموں کے مابین ہونے والی جھڑپوں میں کم سے کم چار افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ پہلا واقعہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب تحصیل لنڈی کوتل کے دور افتادہ پہاڑی علاقے زخہ خیل میں خزانہ کے مقام پر پیش آیا۔

انہوں نے کہا کہ مقامی امن لشکر کے رضاکاروں نے مذہبی شدت پسند تنظیم نے لشکر کے ایک اہم مورچے پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کردیا۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً تین چار گھنٹے جاری رہنے والی اس لڑائی میں لشکر کے ایک رضا کار ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ لشکر کے رضاکاروں نے مورچے پر قبضہ کرکے شدت پسندوں کو پہاڑی علاقوں کی طرف دھکیل دیا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جھڑپوں کے دوران لشکرِ اسلام کے ایک جنگجو کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔

چند ماہ قبل زخہ خیل قبیلے نے مذہبی عسکریت پسند تنظیم لشکر اسلام کے خلاف لشکر تشکیل دیا تھا جس کے بعد سے اس علاقے میں حکومتی حامی قبائلیوں اور شدت پسندوں کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

ادھر خیبر ایجنسی کے ایک علاقے باڑہ سب ڈویژن کے حدود میں کالعدم تنظیموں تحریک طالبان پاکستان اور لشکر اسلام کے درمیان جھڑپوں میں تین شدت پسندوں کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ تازہ لڑائی جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شپ تور درہ کے مقام پر پیش آیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلح فریقین نے ایک دوسرے کے مورچوں کو بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا جس میں تین شدت پسند ہلاک اور اٹھ زخمی ہوئے۔ تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ مارے جانے والے شدت پسندوں کا تعلق کس تنظیم سے ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ کچھ عرصہ سے کالعدم تنظیموں کے مابین باڑہ کے بعض دور افتادہ مقامات پرجھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے جس میں اب تک درجنوں عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ باڑہ کے چند علاقوں میں سکیوٹی فورسز کی طرف سے شدت پسند تنظیموں کے خلاف باقاعدہ کاروائیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اس آپریشن کے باعث تقریباً تیس ہزار سے زائد لوگوں نے بے گھر ہوکر جلوزئی مہاجر کیمپ میں پناہ لے رکھی ہے۔

اسی بارے میں