کسی بھی جارحیت کے خلاف جوابی کارروائی کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستانی فوجیوں کو جوابی کارروائی کا حکم دے دیا گیا ہے: وزیر اعظم

پاکستان کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ افواج پاکستان کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں کہ وہ کسی بھی جارحیت اور ملکی سرحدوں کی خلاف ورزی کا پوری طاقت سے جواب دیں۔

یہ بات انہوں نے پارلیمان کی قومی سلامتی کی کمیٹی کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور حملوں کے بعد امریکہ اور نیٹو سے سیاسی، فوجی، سفارتی، انٹیلیجنس اور دیگر شعبوں میں تعاون پر نظر ثانی کریں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ امریکہ سے پاکستان کے لیے امداد نہیں بلکہ قومی خودمختاری اور سلامتی کا احترام چاہتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ’کسی کے لیے بھی یہ بڑی غلطی ہوگی جو سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں استحکام اور امن پاکستان میں عدم استحکام سے بحال کیا جاسکتا ہے۔‘

وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے اجلاس کے بعد بریفنگ کے دوران بتایا کہ پاکستانی پارلیمان کی قومی سلامتی کے بارے میں کمیٹی نے متفقہ طور پر بون کانفرنس میں کسی بھی سطح پر شرکت نہ کرنے اور نیٹو سپلائی معطل رکھنے کے حکومتی فیصلوں کی توثیق کردی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ میاں رضا ربانی کی صدارت میں ہونے والے اجلاس کو چھبیس نومبر کے نیٹو حملے کے بارے میں ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز میجر جنرل اشفاق ندیم نے بریفنگ دی۔

وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان سے بریفنگ کے دوران جب پوچھا کہ آئندہ کسی حملے کی صورت میں کیا فوج کو جوابی حملے کی حکومت نے اجازت دی ہے تو انہوں نے کہا ’چیف آف آرمی اسٹاف نے اپنے سیکیورٹی آپریٹس کو اپنے انداز میں جو احکامات دیے ہیں تو ان کے آپریشنل اور سرجیکل اسٹریٹیجیز ہیں، ان کی اندرونی حکمت عملی ہے، ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ لیے وہ (فوجی قیادت) جو بھی ایکشن لیں گے، ہم سب اس کی حمایت بھی کرتے ہیں اور اس فورم (پارلیمانی کمیٹی) میں بھی ان کو سپورٹ کیا گیا ہے۔‘

ادھر وزیراعظم ہاؤس سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا ہے کہ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ نیٹو کےبزدلانہ حملوں کی وجہ سے حکومت قومی سلامتی کے معاملات کا از سر نو جائزہ لینے پر مجبور ہوئی ہے۔ ان کے مطابق اس طرح کے حملوں کے علاقائی امن کے لیے بھی سنگین نتائج نکلیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ مہمند میں دو فوجی چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا اور ایک گھنٹے تک حملہ جاری رہا۔ حملے کے چند منٹ کے بعد پاکستان کے فوجی حکام نے نیٹو سے رابطہ کیا لیکن وہ غیر مؤثر ثابت ہوا۔ ان کے بعد ایک قریبی چوکی سے جب امدادی سامان بھیجا گیا تو ان پر بھی حملہ کیا گیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ حملے اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔’ہم نے دو ٹوک انداز میں نیٹو اور امریکہ کو بتا دیا ہے کہ اس طرح کے حملوں کے کا سنگین نتائج ہوں گے۔‘

وزیر اعظم نے مزید کہا:’ہم نے شمسی ایئر بیس خالی کرنے کے لیے امریکہ کو نوٹس دے دیا ہے کہ پندرہ روز میں یہ بیس خالی کردیں۔‘ ان کے بقول حکومت امریکہ، نیٹو اور ایساف سے سفارتی، فوجی، سیاسی اور انٹیلیجنس تعاون سمیت تمام امور پر نظر ثانی کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ حال ہی میں ایک رجحان دیکھنے میں آیا ہے کہ دنیا پاکستان کو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ایک پارٹنر کی بجائے پروبلم کے طور پر سمجہا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں عالمی پالیسیوں کی ناکامی پر پاکستان کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے اور قربانیوں کو تسلیم نہیں کیا جا رہا۔