چترال میں سرحد پار سے حملہ

پاکستان بارڈر سکیورٹی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حملے میں چار سکیورٹی اہلکار زخمی ہوگئے ہیں

قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں ایک ہفتہ قبل ہونے والے نیٹو حملے کے بعد پہلی مرتبہ افغانستان کے علاقے سے چترال میں پاکستانی سکیورٹی فورسز پر حملہ کیاگیا ہے جس میں چار اہلکاروں کی زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

چترال کے ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعہ کی صبح پاک افغان سرحدی علاقے دروش میں اورسند کے مقام پر افغان علاقے سے سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں کو بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حملے میں چار سکیورٹی اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔

ادھر کالعدم تنظیم تحریک طالبان مالاکنڈ ڈویژن کے ترجمان مولانا سراج الدین نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حملے میں سکیورٹی فورسز کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا گیا ہے۔ تاہم مقامی طورپر اس دعوے کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

خیال رہے کہ یہ حملہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایک ہفتہ قبل ہی نیٹو فورسز نے سرحد پار سے مہمندایجنسی کے علاقے میں فوج کی دو چوکیوں کو نشانہ بنایا تھا جس میں چوبیس اہلکار مارے گئے تھے۔ اس حملے کے بعد پاک افغان سرحد پر سکیورٹی سخت کردی گئی تھی۔