’سازش کےتحت صدر کوٹارگٹ بنا رہے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ متنازع میمو کے معاملے میں صدر آصف علی زرداری کو سازش کے تحت نشانہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

لاہور میں پیپلز پارٹی پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے وزیر اعظم نے کہا کہ اگر صدر کو غلط طریقے سے ملوث کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کی ذمہ داری وہ خود قبول کریں گے۔

’میمو گیٹ سکینڈل میں سازش کے تحت صدر آصف علی زرداری کو ٹارگٹ بنانا چاہتے ہیں تاکہ پاکستان پیپلز پارٹی کو نقصان پہنچے۔ اگر ممیو گیٹ سکینڈل میں’وہ کوئی‘ صدر صاحب کو ملوث کرنا چاہتے ہوں گے تو آج میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ ملک کے چیف ایگزیکٹو کے طور پر صدر کی بجائے وہ اس کی ذمہ داری قبول کریں گے۔‘

وزیراعظم نے مزید کہا ’یہ صرف دباؤ ڈالنے کے طریقے ہیں اور یہ اعصاب کی جنگ ہو رہی ہے۔ ہم پارٹی سے مخلص اور میں صدر کے ساتھ ہوں۔‘

انہوں نے کہا صدر زرداری پر تنقید کرنے کا مقصد پیپلزپارٹی پر تنقید کرنا ہے اور صدر کو تنقید کا نشانہ بنانا پارلیمنٹ پر حملہ ہے۔ ’اگر پارلیمنٹ کے ہوتے ہوئے جوہری پروگرام محفوظ نہیں ہے تو آپ مجھے بتائیں کہ ’وہ‘ کیا چاہتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

واضح رہے کہ جمعرات کو سپریم کورٹ میں امریکی افواج کی اعلیٰ کمان کو لکھے گئے متنازع خط سے متعلق مسلم لیگ نواز کے سربراہ میاں نواز شریف کی جانب سے دائر کی جانے والی درخواستوں کی سماعت کے دوران عدالت نے اپنے حکم نامے میں صدر آصف علی زرداری سمیت اس درخواست میں بنائے جانے والے فریقین کو پندرہ روز میں جواب داخل کروانے اورایک تحقیقاتی کمیشن بنانے کا حکم دیا تھا۔

اس حکم نامے کے بعد پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے ایک نیوز کانفرس میں کہا تھا کہ سپریم کورٹ میں متنازع میمو کی سماعت حکومت کے خلاف سازش ہے اور میاں نواز شریف ملک کے منتخب صدر آصف علی زرداری پر غداری کا مقدمہ بنوانا چاہتے ہیں۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ میں اس درخواست کی سماعت سے پہلے ہی حکومت نے متنازع میمو کے معاملے کی تحقیق پارلیمان کی قومی سلامتی کے بارے میں خصوصی کمیٹی کو سونپ رکھی تھی۔

خیال رہے کہ وزیراعظم پاکستان نے امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی سے یہ الزامات سامنے آنے کے بعد استعفٰی لے لیا تھا۔