صدر کو پارلیمان سے خطاب کرنے کا حق ہے: کائرہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے عاشورہ کے بعد پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ساتھ ہی انھوں نے پیپلز پارٹی کے کارکنوں سے کہا ہے کہ وہ جمہوری قدروں کا احترام کریں اور اشتعال میں نہ آئیں۔

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے اپنے بیان میں کہا کہ صدر نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ ان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے لیے ضروری اقدامات کرے۔

ترجمان نے کہا کہ صدر زرداری پیپلز پارٹی کے کارکنوں سے کہا ہے کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں، سختی سے جمہوری قدروں کی پاسداری کریں اور وہ انھیں اشتعال دلانے کی کوششوں کو ناکام کریں۔

بیان کے مطابق صدر نے کہا کہ اشتعال انگریزی کمزور ذہن کی علامت ہے نہ کہ پختہ عزم کی۔ ترجمان کے بیان میں کہا گیا ہے کہ محرم کے بعد حکومت صدر کے پارلیمان سے خطاب کے بارے میں وقت اور تاریخ کا اعلان کرے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار نے صدر آصف علی زرداری کی طرف سے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنے کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا کہ انھیں خدشہ ہے کہ یہ کسی اور گیم پلان کا حصہ ہے۔

ان کا کہنا تھا ’اگر زداری صاحب اور ان کی حکومت کو( متنازعہ میمو) پر اپنی صفائی پیش کرنا ہے تو سپریم کورٹ کا فورم موجود ہے اور یہ معاملہ ایک تقریر کے ذریعے نہیں ہوسکتا۔‘

انھوں نے کہا کہ یہ معاملہ حکومت نے خود گھمبیر بنایا ہے کیوں کہ پہلے چھ ہفتے وہ اس پر کوئی تبصرہ یا تردید کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔

انھوں نے کہا ’ہم سے کوئی بات نہیں کی گئی کہ زرداری صاحب آخر اپنی چپ کو پارلیمان کے اجلاس میں کیوں توڑنا چاہتے ہیں اس کے لیے انھیں پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلانا کیوں مقصود ہے یا یہ کسی اور ڈیل یا کسی کنفیوژن کا حصہ تو نہیں ہے؟‘

انھوں نے کہا دسویں محرم کے دو تین دن بعد ان کی پارٹی مسلم لیگ ن مشاورت کرے گی کہ آیا انھیں پارلیمان کے اس اجلاس میں جانا چاہیے یا نہیں اور اگر جانا چاہیے تو ایسی صورت میں کیا لائحہ عمل اختیار کیا جائے۔

دوسری جانب حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے ترجمان اور سابق وزیر قمر الزماں کائرہ نے نامہ نگار ذوالفقار علی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صدر کو پارلیمان سے خطاب کرنے کا حق ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری یقینی طور پر قومی معاملات اور ملک کی موجودہ صورت حال کے بارے میں بات کریں گے۔

قمر الزماں کائرہ کا کہنا تھا ’اس وقت ملک میں کئی معاملات ہیں۔ پاکستان کا بڑا معاملہ اس کی خود مختاری ہے۔ نیٹو نے ہماری چوکیوں پر جو حملہ کیا جس کی وجہ سے ہمارے چوبیس جوان شہید ہوئے ہیں اس پر پاکستان کی حکومت، قومی اسمبلی اور پارلیمان نے ایک موقف اختیار کیا ہے اس پر قوم کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے۔‘

قمر الزماں کائرہ نے مزید کہا کہ اس وقت جن معاملات کے بارے میں پاکستان کی قوم کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے وہ پاک امریکہ، پاکستان نیٹو اور پاکستان افغانستان کے تعلقات ہیں کیونکہ اس کی دفاعی نکتہ نظر سے بہت اہمیت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مرحلے پر حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ صدر زرداری کن معاملات پر بات کریں گے۔

قمر الزماں کائرہ نے کہا کہ وہ اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ آیا صدر متنازعہ میمو کے معاملے پر بات کریں گے یا نہیں۔ انھوں نے کہا ’متنازعہ میمو کوئی بڑا مسلہ نہیں ہے اور بلاوجہ اس کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے متنازعہ میمو کی تحقیقات پہلے ہی قومی سلامتی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کو سپرد کی اور پاکستان کی سپریم کورٹ کا بھی اس پر ایک موقف ہے قطع نظر اس کے اس پر ہمارے تحفظات ہیں لیکن اس پر عدالت کا ایک موقف ضرور موجود ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہمیں تحقیقات کے نتائج کا انتظار کرنا چاہیے۔

پاکستان کے صدر زرداری نے پارلیمان سے خطاب کا فیصلہ ایک ایسے مرحلے پر کیا جب ایک طرف مبینہ میمو کے تنازعے پر امریکہ میں پاکستانی سفیر حسین حقانی کے استعفے سے پیدا ہونے والی صورت حال موضوع بحث بنی ہوئی ہے اور دوسری طرف نیٹو اور ایساف کی طرف سے پاکستان کی فوجی چوکیوں پر حملے کے باعث پاکستان اور امریکہ کے تعلقات تناؤ کا شکار ہیں۔

اسی بارے میں