مختار مائی کے ہاں بیٹے کی پیدائش

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان میں پنجاب کے جنوبی ضلع مظفرگڑھ کے گاؤں میر والہ میں مبینہ اجتماعی جنسی زیادتی کا شکار ہونے کے بعد حصول انصاف کی جدوجہد کرنے اور ناانصافی کے خلاف دنیا بھر میں ایک علامت کےطور پر ابھرنے والی مختار مائی نے بیٹے کو جنم دیا ہے۔

اتوار کو ملتان کے ایک نجی کلینک میں آپریشن کے ذریعے بچے کی پیدائش ہوئی اور زچہ و بچہ روبصحت ہیں۔

مختار مائی نے پندرہ مارچ دوہزار نو میں علی پور سے تعلق رکھنے والے مقامی پولیس کے ملازم ناصر عباس گبول سے شادی کر لی تھی۔

مختار مائی نے صحافی غضنفر عباس سے بات کرتے ہوئے کہا ’میں بیٹے کی پیدائش پر بہت خوش ہوں اور دعا گو ہوں کہ خدا اسے نیک بنائے۔

انھوں نے کہا کہ’ مجھ سے زیادہ میرے بچے کے نانا نانی اور دادا دادی خوش ہیں۔‘

مختار مائی نے دوران گفتگو یہ بھی بتایا کہ انہیں اس بات کی بھی بے انتہا خوشی ہے کہ ان کے خاوند ناصر عباس کی پہلی بیوی نے میرے بیٹے کی پیدائش کے روز ہی دس ہزار روپے ’سٹھی‘ (پیدائش کے ساتویں روز نام رکھنے کے سلسلے میں ہونے والی تقریب ) کے لیے بھجوائے ہیں۔

تاہم مختار مائِی کے شوہر ناصر عباس کا کہنا تھا ان کی خواہش تھی کے ان کے ہاں بیٹا پیدا ہو۔ ناصر عباس گبول کے مطابق بچے کا نام ان کے والد عاشورہِ محرم کے بعد ایک تقریب میں رکھیں گےتاہم اس میں مختار مائی کی رائے بھی لی جائے گی۔

ناصر عباس کے مطابق بچے کی پیدائش پر اس کے خاندان میں بھی میر والا کی طرح خوشی منائی گئی ہے تاہم عاشورہ محرم کی وجہ سے ڈھول اور جھومر ’مقامی روایتی رقص‘ کا اہتمام نہیں کیا گیا۔

مختار مائی نے ڈھائی برس قبل ایک بچی کو بھی گود لیا تھا جو کہ اپنے بھائی کی پیدائش پر خوش تھی ۔

مختار کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کی طرح اپنی لے پالک بچی کو بھی برابر کی محبت اور توجہ دیں گی ۔ مختار مائی کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کی پرورش اس طرح کریں گی کہ وہ اپنے علاقے کے دیگر مردوں سے مختلف ہو اور خواتین کا احترام کرنے والا ہو۔

اسی بارے میں