یومِ عاشور کے جلوسوں کا اختتام

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پنجاب میں قانون نافذ کرنےوالے اداروں کے اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد ماتمی جلوس کے ساتھ رہی۔

پاکستان میں سخت سکیورٹی میں یومِ عاشور مذہبی عقیدت سے منایا گیا اور ملک بھر میں ہزاروں چھوٹے بڑے ماتمی جلوس نکلے۔

ملک کے چھوٹے اور بڑے شہروں اور قصبوں میں یومِ عاشور کے لیے کڑے حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔

پولیس کے ساتھ ساتھ رینجرز نے بھی گشت کیا جبکہ ہیلی کاپٹرز کے ذریعے فضائی نگرانی بھی کی گئی۔

پنجاب بھر میں یومِ عاشور کے ماتمی جلوس غیر معمولی حفاظتی انتظامات میں نکالے گئے اور مجالس ہوئیں۔

لاہور سے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق صوبہ پنجاب میں قانون نافذ کرنےوالے اداروں کے اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد ماتمی جلوس کے ساتھ رہی جبکہ جلوس میں شامل ہونے سے پہلے مردوں اور خواتین دونوں کی تلاشی لی گئی۔

جلوس کے راستوں میں پولیس کی نفری کے علاوہ عمارتوں کی چھتوں پر بھی پولیس اہلکار موجود تھے۔

مجالس کی وجہ سے امام بارگاہوں کو جانے والے راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کر کے انہیں عام ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

لاہور میں یومِ عاشور کے لیے بارہ ہزار سے زائد پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا اور بڑی تعداد میں رضا کار بھی ماتمی جلوس کے ہمراہ رہے۔

لاہور میں مرکزی جلوس کل رات یعنی پیر کو اور منگل کی درمیانی شب انتہائی کڑے حفاظتی میں اندرون شہر نثار حویلی سے برآمد ہوا اور اپنے روایتی راستے سے ہوتا ہوا شام کو کربلا گامے شاہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔

نثار حویلی سے کربلا گامے شاہ تک تمام راستے کو مکمل طور پر سیل کردیا گیا تھا۔

جلوس میں شامل ہونے کے لیے مخصوص داخلی راستہ بنایا گیا تھا اور اس راستے کے علاوہ جلوس میں شامل ہونے کی اجازت نہیں تھی۔

راولپنڈی، ملتان، ڈیرہ غازی خان، فیصل آباد، جھنگ، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور سرگودھا سمیت پنجاب کے دیگر چھوٹے بڑے شہروں میں بھی ماتمی جلوس نکالے گئے اور روایتی انداز میں یومِ عاشور منایا گیا۔

ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں دس ہزار پولیس اور رینجرز اہلکاروں کی نگرانی میں ماتمی جلوس پرامن طریقے سے اپنی منزل پر اختتام پذیر ہوئے۔ اس سے قبل منگل کی صبح ڈیفنس کے علاقے میں ایک بم دھماکے میں چار افراد زخمی ہوگئے۔

کراچی میں صبح ساڑھے دس بجے ایم اے جناح روڈ پر ماتمی جلوس پہنچا تو ڈیفنس کے علاقے کالا پل پر دھماکہ سنا گیا۔ اس بم دھماکے میں کم از کم چار افراد زخمی ہوئے۔

پولیس کے مطابق بم پل کے ساتھ نصب کیا گیا تھا جسے ریموٹ سے چلایا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ بم تین کلو وزنی تھا۔ ماتمی جلوس کی فضائی نگرانی بھی کی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

دوسری جانب بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں عاشورہ کا سب سے بڑا جلوس عملدار روڈ سے برآمد ہوا اور راستے میں بتیس کے قریب چھوٹے جلوس اس بڑے ماتمی جلوس میں شامل ہوئِے۔ جلوس کی حفاظت پر پولیس اور ایف سی کے دس ہزار اہلکار مامور تھے۔ اس کے علاوہ دن بھر ہیلی کاپٹر کے ذریعے جلوس کی فضائی نگرانی بھی کی جاتی رہی جبکہ کوئٹہ شہر میں تمام موبائل فون کی سروسز صبح سے شام تک بند رہیں۔

صوبۂ خیبر پختونخوا کے حساس اضلاع ہنگو اور کوہاٹ میں حکام کا کہنا ہے کہ یوم عاشور کے جلوسوں کے راستوں پر ہونے والے راکٹ حملوں میں کم سے کم دس افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

ہنگو میں ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل کی صبح مختلف پہاڑی علاقوں سے شہر کے مرکزی بازار پر آٹھ سے دس راکٹ کے گولے داغے گئے۔

نہوں نے کہا کہ ان حملوں میں پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔

اہلکار کے مطابق یہ راکٹ ایسے وقت داغے گئے جب ماتمی جلوس شہر کے بازار سے گزر رہا تھا تاہم گولے عزاداروں اور جلوس سے دور گرے۔

اسی بارے میں