’پرامن یوم عاشور، طالبان کا شکریہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے یوم عاشور نسبتاً پرامن طور پر گزر جانے پر طالبان کا شکریہ ادا کیا ہے اور مستقبل میں ان کے ساتھ بات چیت کا بھی اشارہ دیا ہے۔

منگل کو نویں محرم اور یوم عاشور کے جلوسوں کے اختتام پر اسلام آباد میں ایک اخباری بریفنگ سے خطاب کرتے وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا کہ عشرہ محرم کے دوران سکیورٹی کے انتظامات کے لیے وفاقی وزارت داخلہ نے صوبائی حکومتوں کو جو ہدایات دی تھیں ان پر پوری طرح عمل کیا گیا اور شدت پسند عناصر ملک میں جو گڑ بڑ کرنا چاہتے تھے وہ نہیں کر سکے۔

انہوں نے یوم عاشور کے موقع پر ملک بھر میں کوئی بڑی گڑبڑ نہ ہونے پر تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، چیف اور داخلہ سیکریٹریوں کے علاوہ پولیس سمیت تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مبارکباد دی اور ساتھ ہی طالبان کے لیے تشکر کے جذبات کا اظہار کیا۔

انھوں نے اس موقع پر کہا کہ’میں نے طالبان سے اپیل کی تھی کہ محرم الحرام کا احترام کیا جائے اور میں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انھوں نے بھی اس بار احترام کیا ہے اور یہ خوش آئندہ ہے۔‘

رحمان ملک نے طالبان کے ساتھ بات چیت کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ’میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ آئیں ہتھیار پھینک دیں اور پاکستان میں مل جل کر کام کرتے ہیں اور یہ پیشکش آج بھی میری ان’طالبان‘ کو ہے۔‘

رحمان ملک کے مطابق’جہاں میں پوری کمیونٹی، علماء کرام کا شکریہ ادا کر رہا ہوں وہیں ان لوگوں کا بھی شکریہ ادا کروں گا، جنھوں نے محرم میں تشدد ختم کرنے میں ہمارا ساتھ دیا۔‘

یاد رہے کہ رحمان ملک ماضی میں طالبان کے خلاف سخت مؤقف کا اظہار کرتے رہے ہیں اور انہیں ظالمان کہہ کر پکارتے رہے ہیں۔

اس کے علاوہ ماضی میں طالبان کو مذاکرات کی مشروط پیشکش بھی کر چکے ہیں۔

رحمان ملک نے نیوز بریفنگ میں مزید کہا کہ محرم کے دوران متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا اور تیسری طاقت کی حکمت عملی کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔

واضح رہے کہ پاکستان میں نویں محرم اور یوم عاشور کے ماتمی جلوسوں کے موقع پر سکیورٹی کے سخت حفاظتی انتطامات کیے گئے تھے۔

اسی بارے میں