’حقوق انسانی کے کارکن مشکلات سے دوچار‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption خواتین کارکنوں کو بھی ڈرایا دھمکایا جاتا ہے اور ان کو کام نہیں کرنے دیا جاتا: آئی اے رحمان

انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان نےکہا ہے کہ خطے میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کو شدید مشکلات اور جان کا خطرہ ہے۔

تنظیم کے مطابق انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے متعدد کارکن اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور بڑی تعداد میں کارکن یہ کام ہی چھوڑ چکے ہیں۔

جمعرات کو یہ بات انسانی حقوق کے عہدیداروں نے انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کے بارے میں سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہی۔

انسانی حقوق کمشن پاکستان کی چیئرپرسن زہرہ یوسف اور جنرل سیکریٹری آئی اے رحمان نے لاہور کے ایک ہوٹل میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے بعض حصوں میں اُن کے کارکنوں کو دھمکیاں ملتی ہیں جس کی وجہ سے اکثر یہ کام چھوڑ چکے ہیں۔

زہرہ یوسف نے بتایا کہ جمعرات کو ہی ان کے ایک ساتھی زرطیف آفریدی کو خیبر ایجنسی میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زرطیف آفریدی سن انیس سو اکانوے سے اُن کے ساتھ کام کر رہے تھے اور وہ ان کے فاٹا یا قبائلی علاقوں میں آخری ساتھی تھے کیونکہ باقی کارکن پہلے ہی دھمکیاں ملنے کے باعث فاٹا چھوڑ چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پچاس سالہ زرطیف خان آفریدی کا شمار انسانی حقوق کے متحرک کارکنوں میں ہوتا تھا۔ وہ گزشتہ پندرہ سال سے ایچ آر سی پی سے منسلک تھے

زہرہ یوسف نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ زرطیف آفریدی کے قاتلوں کو گرفتار کر کے کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے لوگوں کو بلوچستان، کراچی اور فاٹا میں پہلے تو اغوا کر کے اور ڈرا دھمکا کے چھوڑ دیا جاتا تھا لیکن اب ان کو مار دیا جاتا ہے اور ان کی لاشوں کو مسخ کر کے پھینکا جاتا ہے۔

زہرہ یوسف نے کہا کہ ان علاقوں میں صحافیوں کو بھی اپنے فرائض انجام دینے میں کافی مشکلات پیش آتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بلوچستان، فاٹا اور خیبر پختونخوا میں چالیس فیصد صحافی کام چھوڑ چکے ہیں کیونکہ ان کو دھمکیاں ملتی ہیں اور اغوا کر لیا جاتا ہے جو کہ بہت ہی تشویش کی بات ہے۔

لاہور سے نامہ نگار علی سلمان نے بتایا کہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کے جنرل سیکریٹری آئی اے رحمان نے کہا کہ اس سال اُن کے ساتھ کام کرنے والے کارکنوں کے علاوہ سولہ صحافیوں کو بھی قتل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حقوق نسواں کے لیے کام کرنے والی خواتین اور وکلاء کو بھی سختیاں جھیلنا پڑتی ہیں۔

آئی اے رحمان نے کہا کہ خواتین کارکنوں کو بھی ڈرایا دھمکایا جاتا ہے اور ان کو کام نہیں کرنے دیا جاتا، اسی طرح اگر کسی ملزم کے خلاف توہین رسالت کا الزام ہو تو کوئی بھی وکیل اس کا مقدمہ نہیں لیتا کیونکہ اس کو دھمکیاں ملتی ہیں اور زندگی کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔

آئی اے رحمان نے کہا کہ ملک میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے لوگوں کو ہر طرف سے پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان کو شدت پسندوں کے ساتھ ساتھ حکومت کی طرف سے بھی نا انصافیاں برداشت کرنی پڑتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فیصل آباد میں مزدور یونین کے چھ افراد کو انسداد دہشتگردی کی عدالت نے مجموعی طور پر پانچ سو ستانوے سال کی سزا دی ہے اور اسی طرح ملک کے دوسرے شہروں میں بھی مزدور یونین کے افراد جیلوں میں قید ہیں جو کہ بالکل ناانصافی ہے۔

انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ حکومت اور سول سوسائٹی کو انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے افراد کا بھرپور ساتھ دینا چاہیے اور ایسےموثر اقدامات اٹھانے چاہیے جن سے ان کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

اسی بارے میں