خیبر ایجنسی: انسانی حقوق کا کارکن قتل

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption زرطیف خان نے حال ہی میں پشاور میں تمام قبائلی علاقوں کے مشران کا ایک گرینڈ امن جرگہ منعقد کرایا تھا۔

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیم ایچ آر سی پی کے کوارڈینیٹر کو مسلح نقاب پوشوں نے فائرنگ کرکے ہلاک کردیا ہے۔

خیبر ایجنسی کے ایک اعلی سرکاری اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ یہ واقعہ جمعرات کی صبح تقریباً آٹھ بجے کے قریب جمرود بازار سے چند کلومیٹر نزدیک غنڈی کے علاقے میں پیش آیا۔

انہوں نے کہا کہ خیبر ایجنسی میں ہیومن راٹس کمیشن آف پاکستان کے کوارڈنیٹر زرطیف خان آفریدی موٹر سائیکل پر جارہے تھے کہ سڑک کے کنارے مسلح نقاب پوشوں نے ان پر اندھادھند فائرنگ کردی جس سے وہ موقع ہی پر ہلاک ہوگئے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دو مسلح حملہ آوار موٹر سائیکل پر سوار تھے اور فائرنگ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔ اس حملے کی ذمہ داری عبداللہ عزام برگیڈ نامی ایک شدت پسند تنظیم نے قبول کر لی ہے۔ تنظیم کے ترجمان ابو مصغپ نے خیبر ایجنسی میں صحافیوں کو فون کرکے بتایا کہ وہ آئندہ بھی غیر سرکاری تنطمیوں کے کارکنوں، امریکہ کے حامیوں اور ان کے اتحادیوں پر حملے جاری رکھیں ہیں۔

انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان نے زرطیف آفریدی کے قتل پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اس کے مزمت کی ہے۔

ادارے نے حکومت سے زرطیف آفریدی کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا اور کہا کہ وہ علاقے میں انسانی حقوق کے کارکنوں کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات کے حوالےسے اقدامات کرے۔

ایک بیان میں انسانی حقوق کمیشن پاکستان کا کہنا تھا کہ زرطیف خان کی ہلاکت کی صورت میں سول سوسائٹی نے ایک مخلص کارکن کھو دیا ہے۔

خیبر ایجنسی میں انسانی حقوق کے ایک کارکن نے بتایا کہ مقتول کو ’ ٹارگٹ کلنگ‘ کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقتول کو کچھ عرصہ سے نامعلوم افراد کی طرف سے دھمکیاں مل رہی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ زرطیف خان نے حال ہی میں پشاور میں تمام قبائلی علاقوں کے مشران کا ایک گرینڈ امن جرگہ منعقد کرایا تھا جس میں فاٹا سے شدت پسندی کے خاتمے اور امن کے حوالے اہم تجاویز دی گئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ امن جرگہ بڑا کامیاب رہا تھا اور بعد میں جرگہ منتظمین کو نامعلوم افراد کی طرف دھمکیاں بھی ملی تھیں۔

مقتول کے چھوٹے بھائی رحمت علی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے بھائی ایک سرکاری سکول میں ہیڈ ماسٹر تھے اور کل ہی ان کی گریڈ سترہ میں ترقی ہوئی تھی جس پر وہ بہت زیادہ خوش تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کسی سے کوئی ذاتی دشمنی یا لین دین کا تنازعہ نہیں تھا۔

پچاس سالہ زرطیف خان آفریدی کا شمار انسانی حقوق کے متحرک کارکنوں میں ہوتا تھا۔ وہ گزشتہ پندرہ سال سے ایچ آر سی پی سے منسلک تھے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقے میں رہتے ہوئے بھی مقتول اکثر اوقات شدت پسندوں اور سکولوں پر حملے کرنے والے افراد کے خلاف کھلے عام باتیں کرتا تھا۔

مقتول نے پسماندگان میں دو بیٹے اور چار بیٹیاں چھوڑے ہیں۔

اسی بارے میں