’خارجہ پالیسی پر غور، سفیروں کی کانفرس‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

حکومتِ پاکستان نے نیٹو حملے کے تناظر میں ملک کی خارجہ پالیسی کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے مختلف ممالک میں مقیم پاکستانی سفیروں کی کانفرنس اگلے ہفتے طلب کی ہے۔

یہ کانفرنس چھبیس نومبر کو نیٹو کے ہیلی کاپٹروں کی طرف سے پاکستانی فوج کی چیک پوسٹوں پر ہونے والے حملے کے بعد بلائی گئی ہے۔

اس حملے میں دو افسروں سمیت چوبیس سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے اور پاکستان نے اس حملے پر شدید ردِ عمل ظاہر کیا تھا۔

نامہ نگار حفیظ چاچڑ کے مطابق دفترِ خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے ہفتہ وار پریس بریفگ میں صحافیوں کو بتایا کہ مختلف ممالک میں مقیم پاکستانی سفیروں کی ایک کانفرنس بارہ اور تیرہ دسمبر کو اسلام آباد میں ہوگی جس میں خارجہ پالیسی کے مختلف پہلوؤں پر بحث کی جائے گی۔

امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات پر بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ پاکستان کے دوطرفہ تعلقات ہیں اور چھبیس نومبر کے واقعے کے بعد وفاقی کابینہ، پارلیمان کی قومی سلامتی کی کمیٹی اور کابینہ کی دفاعی کمیٹی کی ہدایت پر تعلقات کا ازسرنو جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ان کے مطابق حکومتِ پاکستان نے وسیع قومی مفاد میں بون کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلا کیا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ پاکستان افغانستان کے معاملے سے بلکل الگ ہو گیا ہے اور افغانستان کا امن اور استحکام بھی پاکستان کے وسیع تر مفاد میں ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے پاکستان کے ساتھ تمام معاملات کو حل کرنے کےلیے ایک سیاسی فریم ورک کا اعلان کیا ہے جس پر انہوں نے کہا کہ یہ ایک تجویز ہے جس پر کچھ بات چیت ہوئی تھی اور یہ اس وقت ہوئی تھی جب گزشتہ سال نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔

یوم عاشور پر افغانستان کے تین مختلف شہروں میں ہونے والے بم دھماکوں پر افغان صدر حامد کرزئی کے بیان پر عبدالباسط نے کہا کہ پاکستان بم دھماکوں کی شدید الفاظ میں مذمت کا چکا ہے اور دہشت گردی دونوں ممالک کا بڑا مسئلہ ہے اور دونوں کو اس کے خاتمے کےلیے مل کام کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک کالعدم تنظیم کے بارے میں صدر حامد کرزئی کا بیان دیکھا ہے اور ہم کابل سے کہتے ہیں کہ وہ حکومتی سطح پر اس بارے میں تمام ثبوت پیش کرے۔‘

یاد رہے کہ افغان صدر حامد کرزئی نے یوم عاشور پر افغانستان کے تین مختلف شہروں میں ہونے والے بم دھماکوں کی ذمہ داری پاکستانی شدت پسند کالعدم تنظیم لشکرِ جھگنوی کی طرف سے قبول کیے جانے کے بعد کہا تھا کہ وہ حکومتِ پاکستان سے اس معاملے پر بات کریں گے۔

اسی بارے میں