کوئٹہ میں نیٹو آئل ٹینکرز پر راکٹ حملہ

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں نیٹو سپلائی کے ٹرمینل پر نامعلوم مسلح افراد کے راکٹ حملے میں بیس سے زیادہ آئل ٹینکرز تباہ ہو گئے ہیں تاہم اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق جمعرات کی رات ایک موٹرسائیکل پر سوار دو نامعلوم افراد نے کوئٹہ کے مغربی بائی پاس پر واقع نیٹو سپلائی کے ٹرمینل پر دو راکٹ فائر کیے۔

راکٹ فائر کیے جانے پر سکیورٹی فورسز نے جوابی فائرنگ کی جس پر ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

ٹرمینل میں راکٹ گرنے سے وہاں کھڑے آئل ٹینکرز میں آگ بھڑک اٹھی، جس پر قابو پانے کی کوششیں جاری تھیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے کے وقت ٹرمینل میں تیس کے قریب ٹینکرز کھڑے تھے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے کیونکہ راکٹ حملے کے فوری بعد ٹرمینل میں موجود آئل ٹینکرز اور سکیورٹی کا عملہ وہاں سے نکلنےمیں کامیاب ہو گیا۔

اس واقعے کے بعد ٹرمینل کے قریب واقع مکانات اور دکانوں کو احتیاطً خالی کرا لیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ چھبیس نومبر کو مہمند ایجنسی میں پاکستانی فوجی چوکیوں پر نیٹو کے حملے کے بعد حکومت نے احتجاجاً پاکستان کے راستے نیٹو سپلائی فوری بند کی دی تھی۔

نیٹو سپلائی روکنے کے بعد صوبائی حکومت نے نیٹو کنٹینرز اور آئل ٹینکرز کی نگرانی سخت کر دی تھی اور ایف سی نے کوئٹہ کے نواحی علاقے میں واقع نیٹو ٹرمینلز میں لوگوں کی آمدو رفت پر بھی پابندی عائد کر دی۔

اسی بارے میں