’بلوچستان کے عوام سے اظہارِ یکجہتی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

دنیا بھر کی طرح سنیچر کو پاکستان میں بھی انسانی حقوق کا عالمی دن منایا گیا تاہم اس مرتبہ پاکستان میں یہ دن بلوچستان کے عوام کے حقوق کی جدوجہد کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر منایا گیا۔

ملک کے کئی شہروں میں انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر مظاہرے ہوئے اور مظاہرین نے بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورت حال تشویش کا اظہار کیا۔

انسانی حقوق عالمی دن کے موقع پر پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں پریس کلب کے سامنے ایک مظاہرہ کیا گیا۔ اس مظاہرے کا اہتمام انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان نے کیا تھا۔

انسانی حقوق کے کارکن لاہور پریس کلب کے سامنے اکٹھے ہوئے اور مظاہرین نے ہاتھوں میں جو کتبے اٹھا رکھے تھے ان پر بلوچستان کے عوام کو تمام حقوق دیے جائیں، بلوچستان میں جبری گمشدہ افراد کو بازیاب کیا جائے اور بلوچستان میں ناانصافی کے ازالے کا یہی وقت ہے، جیسی عبارتیں درج تھیں۔

نامہ نگار عبادالحق کے مطابق انسانی حقوق کے کارکنوں نے بلوچستان میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف نعرے بھی لگائے اور بلوچی عوام کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لیے شمعیں روشن کیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کے سیکرٹری جنرل آئی اے رحمان نے انسانی حقوق کے عالمی دن کو بلوچی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر منانے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ آٹھ برسوں سے بلوچی عوام کے حقوق کی بات رہےہیں لیکن کوئی اثر نہیں ہو رہا۔‘

انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ گمشدیوں میں اضافہ ہورہا ہے اور لاشیں مل رہی ہیں۔

آئی اے رحمان نے کہا کہ بلوچی عوام کو وہی حقوق ملنے چاہیے جو پاکستان کے باقی شہریوں کو حاصل ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بلوچی عوام کو اتنا نہ ڈرایا جائے کہ پاکستان کی سلامتی خطرے میں پڑ جائے۔

انسانی حقوق کمیشن کے مطابق سال دو ہزار گیارہ کے دوران بلوچستان میں جبری گمشیدگی کے ایک سو سات نئے واقعات کی اطلاعات ملی ہیں جبکہ کمیشن کے بقول ایک سال میں دو سو پچیس گمشدہ افراد کی لاشیں ملی ہیں۔

کراچی میں بھی انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر پریس کلب کے باہر ہونے والے مظاہرے میں نوجوان لڑکے اور لڑکیوں اکثریت شامل تھی جبکہ اس مظاہرے میں بچے بھی شریک ہوئے۔ مظاہرین نے جبری گمشدہ ہونے والوں کی ملنے والی مسخ لاشوں کی تصاویر اٹھا رکھیں تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان نے جہاں شہریوں سے یہ اپیل کی ہے کہ وہ بلوچستان کے حقوق کے حصول کی جدوجہد میں ان کے ساتھ دیں وہیں حکومت پاکستان سے یہ مطالبہ کیا کہ بلوچی لوگوں کے حقوق کے لیے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔

بلوچستان میں تقریبات

انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر بلوچستان میں مختلف سیاسی اور سماجی رہنماؤں نے کہا ہے کہ جب تک صوبے میں لاپتہ افراد کو منظرعام پر نہیں لایاجاتا ہے اس وقت اسلام آباد کے بارے میں بلوچستان کے عوام کا اعتماد بحال نہیں ہو سکتا اور حکومت تشدد کی بجائے بات چیت کا راستہ اختیار کرے۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق سنیچر کو انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر کوئٹہ اور صوبے کے دیگر علاقوں میں مختلف اجتماعات منعقد ہوئے۔

کوئٹہ میں بلوچ ہومین رائٹس کی جانب سے ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں خواتین اور بچوں کی ایک بڑی تعداد نےشرکت کی۔ ریلی کے شرکاء شہر کے مختلف سڑکوں سے ہوتا ہوا جب کوئٹہ پریس کلب پہنچے توانہوں نے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا۔

مظاہرے کے شرکاء نے انسانی حقوق کے عالمی تنظیموں سے بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالی روکنے کا مطالبہ کیا۔

اس موقع پر بلوچ ہیومن رائٹس کی ایک خاتون رہنماء نے کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی گمبھیر ہے اور آئے روز لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں ملتی ہے لیکن حکومت ایسے واقعات کی روک تھام میں ناکام ہو چکی ہے۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہاکہ لاپتہ افراد کے لواحقین گزشتہ دو سالوں سے احتجاج پر ہیں لیکن حکومتی وعدوں کے باوجود کوئی لاپتہ شخص آج تک منظرعام پر نہیں آیا ہے۔

انہوں نے لاپتہ افراد کو منظرعام پر لانے کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے تشکیل دیے گئے کمیشن پرعدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ہوئے اعلان کیا کہ آئندہ لاپتہ بلوچوں کے ورثاء کسی صورت میں کمیشن کے سامنے پیش نہیں ہونگے لیکن لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کے لیے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

دوسری جانب بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے زیراہتمام ایک سیمینار منعقد ہوا۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان بار کے صدر ملک ظہور شاہوانی ایڈووکیٹ نے کہا کہ کہ بلوچستان کے مسئلے کو ماضی میں بھی طاقت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی تھی جوکامیاب نہ ہو سکی اور آج بھی سینکڑوں سیاسی کارکن لاپتہ ہیں دو سو سے ڈھائی سو سیاسی کارکنوں، طلبہ، وکلاء اور صحافیوں کی مسخ شدہ لاشیں اب تک مل چکی ہیں۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماء ملک ولی کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان کے مسئلے کے حل کے لیے یہاں کے سیاسی جماعتوں اور قبائلی رہنماؤں کو خود مل بیٹھ کر بیٹھنا چاہیےکیونکہ وفاقی حکومت اور دیگر اداروں سے بلوچستان کے مسئلے کے حل کی توقع نہیں ہے۔

انہوں نے میڈیا کے کردار پر بھی تنقید کی اور کہا کہ قومی ذرائع ابلاع میں بلوچستان کے مسئلے پر ایک فیصد سے بھی توجہ دی جا رہی ہے حالانکہ بلوچستان کے وسائل کی وجہ سے ہی دنیا میں پاکستان کی اہمیت زیادہ ہے۔

اسی بارے میں