’آئینی، جمہوری طور پر حکومت کو خطرہ نہیں‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ حکومت کو آئین اور جمہوریت کے تحت کوئی خطرہ نہیں ہے۔

اتوار کو وزیراعظم ہاؤس میں بی بی سی کو دئے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایسا آپ کو محسوس ہو رہا کہ حکومت دباؤ کا شکار ہے یا کوئی انہونی ہونے جا رہی ہے جس کی وجہ سے آپ کو ایسے بیان دینے پڑ رہے ہیں کہ ’میں پارٹی سے دھوکہ نہیں کروں گا۔‘

جس پر وزیراعظم نے کہا کہ ’میں آپ کو ایک چیز بتاؤں کہ کوئی انہونی بات نہیں ہونے والی ۔۔۔ ہمارے ساتھ یہ باتیں ہونے والی ہی ہوتی رہی ہیں ماضی میں، اس لیے یہ کوئی نئی باتیں نہیں ہیں۔ جہاں تعلق ہے جمہوریت کا، جہاں تعلق ہے پارلیمینٹ کا، پارلیمینٹری ڈیموکریسی کے تحت، آئین کے تحت، رولز آف بزنس کے تحت، جمہوریت کے تحت ہمیں کوئی خطرہ نہیں ہے‘۔

میاں نواز شریف کی جانب سے متنازع میمو کا معاملہ سپریم کورٹ میں لے جانے کے متعلق ایک سوال پر وزیراعظم نے کہا ’جب آپ ایک پارلیمینٹیرین کی بات نہیں مانتے اور ایک تھانیدار کی بات مانتے ہیں تو یہ پارلیمان کی توہین ہے‘۔

اس سوال پر کہ متنازع میمو کے بارے میں تاثر ہے کہ امریکی سٹیٹ یا نان سٹیٹ ایکٹرز کی جانب سے پاکستانی حکومت کے خلاف سازش کی گئی تو جواب میں وزیراعظم نے کہا ’ہمیں خود کو سمجھدار ہونا چاہیے۔ اگر امریکہ کے کہنے پر آپ سب کچھ کر لیتے ہیں تو ہماری بھی کمزوری سمجھی جائے گی۔ اس لیے ہمیں ان لوگوں کی طرف توجہ نہیں دینی چاہیے جو ماضی میں ہر دور میں ہمارے اداروں کو بدنام کرتے رہے ہیں اور اب بھی کررہے ہیں۔‘

نیٹو رسد کی معطلی

پاکستان کے وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے راستے افغانستان میں نیٹو کے لیے رسد کی فراہمی شاید کئی ہفتوں تک معطل رہے۔

انہوں نے اس امکان کو رد نہیں کیا کہ پاکستان امریکہ کے لیے اپنی فضائی حدود کے استعمال پر بھی پابندی عائد کر سکتا ہے۔

نیٹو کی جانب نے پاکستان کی سرحدی چوکیوں پر حملے میں چوبیس سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت پر پاکستان نے اپنی حدود سے نیٹو کے سامانِ رسد کی فراہمی معطل کر دی تھی۔

وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ امریکہ نے شمسی ایئر بیس خالی کر دیا ہے اور اب یہ پاکستانی فورسز کے پاس ہے۔

بلوچستان میں واقع شمسی ایئر بیس متحدہ عرب امارات نے بنایا تھا جوگزشتہ کئی برسوں سے امریکہ کے زیر استعمال رہا ہے لیکن چھبیس نومبر کو نیٹو کی جانب سے مہمند ایجنسی میں پاکستانی فوجی چوکیوں پر حملے کے بعد حکومت پاکستان نے امریکہ سے کہا تھا کہ وہ پندرہ دنوں میں اس ایئربیس کو خالی کردے اور یہ مہلت اتوار کو پوری ہوئی ہے۔

وزیراعظم کا انٹرویو: آڈیو سنیے

طالبان سے مذاکرات

پاکستان کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ تشدد ترک کرنے اور ہتھیار ڈال دینے والے طالبان قومی دھارے میں شامل ہو سکتے ہیں لیکن طالبان کے مسلح گروہوں سے مذاکرات ممکن نہیں ہیں۔

طالبان سے حکومتی سطح پر بات چیت کے بارے میں انہوں نے کہا ’ہمیشہ سے جو ہماری تھری ڈی پالیسی ہے (اس میں) پہلے نمبر پر مذاکرات ہیں، دوسرے پر ترقیاتی کام اور تیسرے نمبر پر ڈیٹیرنس ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ سوات میں مولانا فضل اللہ کے ساتھ بات کی تھی اور (ان سے) ہمارا معاہدہ ہوا تھا۔ اس معاہدے کی جب خلاف ورزی ہوئی تو ہمارے پاس اور کوئی چارہ نہیں رہا کہ ہم پھر فوجی کارروائی کریں۔‘

انہوں نے کہا کہ آپ نے دیکھا کہ ہم نے فوجی کارروائی کی۔ حکومت کی پالیسی ہے کہ اگر کوئی فرد یا گروہ تشدد کو ترک کرتا ہے اور اس وعدے کے ساتھ پولیٹیکل ایجنٹ کے سامنے جاکر ہتھیار پھینک دیتا ہے کہ وہ تشدد میں ملوث نہیں رہے گا تو پھر وہ قومی دھارے میں آجاتا ہے۔ ’مگر کسی بھی مسلح گروہ سے ہماری بات نہیں ہورہی ہے۔‘

جب ان سے سوال کیا گیا کہ مولوی فقیر حسین کا بیان شائع ہوا تھا کہ حکومت نے ایک سو پینتالیس شدت پسند خیرسگالی کے طور پر رہا کردیے ہیں، وزیراعظم نے جواب میں کہا ’دیکھیں ان کا جو دعویٰ ہے وہ ان کی بات ہے۔ اس کے لیے جو میرے (پاس) اطلاعات ہیں وہ میں آپ کو فوری طور پر نہیں دے سکتا۔‘

نامہ نگار نے استفسار کیا کہ یعنی کچھ پسِ پردہ چل رہا ہے جس پر وزیراعظم نے کہا ’نہیں کچھ بھی درپردہ نہیں ہوگا۔ ہمارا جو ہوگا وہ پردے کے بغیر ہوگا۔‘

امریکہ سے تعلقات میں بداعتمادی

وزیراعظم گیلانی نے اس موقع پر بی بی سی ٹیلی وژن کے ساتھ بھی گفتگو کی جس میں انہوں نے چھبیس نومبر کو پاکستانی سرحدی چیک پوسٹ پر نیٹو حملوں کے بعد پاک۔ امریکہ تعلقات کے بارے میں سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان اس واقعے کے بعد اعتماد میں کمی آئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جی ہاں ہمارے درمیان اعتماد کا فقدان ہے۔ ہم اکٹھے کام کر رہے ہیں لیکن ہم ایک دوسرے پر اعتبار بھی نہیں کرتے۔ میرا خیال ہے کہ ہمیں اپنے تعلقات بہتر بنانا ہوں گے۔ بہتر نتائج کے لیے ہمیں ایک دوسرے پر اعتماد بڑھانا ہو گا‘۔

وزیراعظم گیلانی نے کہا کہ پاکستان میں امریکہ اپنی کارروائیاں کس طرح کرتا ہے اس بارے میں ہمیں امریکہ کے ساتھ قواعد و ضوابط طے کرنے ہوں گے۔ خاص طور پر پاکستانی سر زمین پر ڈرون طیاروں کے حملوں کو روکنا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ ’جب امریکہ اور ہمارے درمیان نئے قواعد طے ہو جائیں گے تو میرے خیال میں ہم ایک دوسرے پر مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے زیادہ اعتبار کرنے لگیں گے۔ اگر امریکہ ہمیں ٹھوس شواہد فراہم کرے تو پاکستان ان پر ضرور کارروائی کرے گا۔

’اب پر کیا جلنے ہیں‘

سرائیکی صوبے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ سرائیکی صوبہ عوام کی خواہش ہے اور اہم معاملہ ہے جسے آئندہ پارلیمان کے لیے نہیں چھوڑا جاسکتا اور حکومت موجودہ اسمبلی سے سرائیکی صوبہ بنانے کے لیے رجوع کرے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وزیراعظم نے کہا کہ شمسی ائیربیس اب پاکستانی فورسز کے پاس ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کچھ عرصہ قبل آپ نے کہا تھا کہ آپ استعفٰی دے دیں گے لیکن این آر او کے بارے میں سوئس حکومت کو خط نہیں لکھیں گے تو کیا اب بھی آپ کا یہ ہی موقف ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ انہوں نے یہ بات کبھی نہیں کہی اور اسے غلط انداز میں پیش کیا گیا تھا۔

بینظیر بھٹو کے قاتلوں کو سزا نہ ملنے کے متعلق سوال پر وزیراعظم گیلانی نے کہا ’میں آپ کو صرف یہ بتانا چاہتا ہوں، آپ اگر یہ دیکھیں کہ جو ہائی پروفائل کیسز ہیں ان میں وقت لگتا ہے اور باقی بھی آپ کے ملک میں کئی آپ نے دیکھے ہیں، قتل ہوئے ہیں، اور ان کی اب تک کوئی بات سامنے نہیں آئی۔ یہ معاملہ زیر التوا ہے۔ عدالت میں ہے اور نتائج کا انتظار کرنا چاہیے‘۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ قاتل اتنے طاقتور ہیں کہ انہیں گرفت میں لیتے ہوئے حکومت کے پر جلتے ہوں؟ اس پر وزیراعظم نے کہا ’حکومت کے پر اب کیا جلنے ہیں۔۔۔ چار سال سے تو بیٹھے ہیں۔‘

مرکز میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف کے اس بیان پر کہ’بینظیر کو تڑپتا چھوڑ کر جانے والے حکومت میں وزیر اور مشیر ہیں‘ وزیراعظم گیلانی نے تبصرہ کرنے سے گریز کیا اور صرف اتنا ہی کہا کہ ’یہ ان کی رائے ہے، میں اس کو روک تو نہیں سکتا‘۔

اسی بارے میں