خارجہ پالیسی پر نظرثانی کے لیے کانفرنس

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کانفرنس میں چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف اور ڈی جی آئی ایس آئی بھی شریک ہیں

اسلام آباد میں پیر کے روز سے پاکستانی سفیروں کی دو روزہ کانفرنس ہو رہی ہے جس میں پندرہ ملکوں میں تعینات پاکستانی سفیر اور ہائی کمشنرز شریک ہیں۔

یہ کانفرنس پاکستانی سرحدی چوکی پر نیٹو کے حملے کے بعد امریکہ اور نیٹو کے ساتھ تعلقات پر نظرِ ثانی کے لیے بلائی گئی ہے۔

اس کانفرنس میں امریکہ، برطانیہ، افغانستان، سعودی عرب، اٹلی، جرمنی، روس، بیلجئم اور تھائی لینڈ سمیت پندرہ اہم ممالک میں پاکستانی سفیروں کے علاوہ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے سفیر بھی شریک ہیں۔

کانفرنس میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف اور ڈی جی آئی ایس آئی بھی شریک ہیں۔ پیر کو کانفرنس کے پہلے روز ڈی جی آئی ایس آئی نے بریفنگ دی۔

کانفرنس کے شروعات میں پاکستان کی وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا کہ کے یہ کانفرنس بدلتے ہوئے حالات سے ہم آہنگ ہونے میں معاون ثابت ہوگی۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے دفتر خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات پر بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ کے ساتھ پاکستان کے دوطرفہ تعلقات ہیں اور چھبیس نومبر کے واقعے کے بعد وفاقی کابینہ، پارلیمان کی قومی سلامتی کی کمیٹی اور کابینہ کی دفاعی کمیٹی کی ہدایت پر تعلقات کا ازسرنو جائزہ لیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں