اسامہ کمیشن:سیاست دانوں کے بیانات قلمبند

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں امریکی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں القاعدہ کے رہنما اُسامہ بن لادن کی ہلاکت کے واقعے کی تحقیقات کرنے والے اعلیٰ سطحی کمیشن نے منگل کے روز ہونے والے اپنے اجلاس میں متعدد سیاست دانوں کے بیانات قلمبند کیے۔

جن سیاست دانوں کے بیانات قلمبند کیے اُن میں عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی، افراسیاب خٹک، جماعت اسلامی کے نائب امیر پروفیسر خورشید احمد اور تحریک انصاف پاکستان کے وائس چیئرمین حامد خان شامل ہیں۔

کمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال اور کمیشن کے دیگر تین ارکان نے مذکورہ سیاست دانوں سے سوالات بھی کیے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کمیشن کے ارکان نے ملک کی مختلف سیاسی جماعتوں کے اہم عہدوں پر فائض سیاست دانوں کے بیانات قملبند کیے ہیں۔

کمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے مطابق صدر آصف علی زرداری سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کو کمیشن کے سامنے پیش ہونے کے بارے میں خود پیش ہونے یا اپنے کسی نمائندے کو بھیجنے کا کہا گیا تھا۔

کمیشن نے ان سیاسی جماعتوں کے قائدین کو سوال نامہ بھی بھیجا ہے۔

کمیشن نے صدر آصف علی زرداری کو بھی بطور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کے طور پر سوالنامہ بھجوایا تھا تاہم کمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ کمیشن کو اس بات کا بھی احساس ہے کہ صدر کو آئین کے تحت استثنیٰ بھی حاصل ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین کے اس کمیشن کے سامنے پیش ہونے کے امکانات بہت کم ہیں اور اُن کے نمائندے اس کمیشن کے سامنے پیش ہوں گے۔

کمیشن نے اُنیس دسمبر کو عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کو بھی طلب کیا ہے جبکہ امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کا بیان بھی اُسی روز قلمبند کیے جانے کا امکان ہے۔

تحقیقاتی کمیشن کے مطابق سابق پاکستانی سفیر سے مبینہ طور پر امریکہ کے خفیہ ادارے سے تعلق رکھنے والے افراد کو ویزے جاری کرنے سے متعلق پوچھ گچھ کی جائے گی۔

کمیشن نے برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر واجد شمش الحسن کو بھی اس ماہ کے آخر میں کمیشن کے سامنے پیش ہونے کو کہا ہے۔

کمیشن کے سربراہ کے مطابق ایبٹ آباد میں اُسامہ بن لادن کی ہلاکت کے واقعہ کی تحقیقات اس ماہ کے آخر تک مکمل کیے جانے کا امکان ہے جبکہ مبصرین کا کہنا ہے ایبٹ آباد واقعہ کی تحقیقات میں کم از کم مزید ایک سے ڈیڑھ ماہ کا عرصہ درکار ہوگا۔

یاد رہے کہ دو مئی کو امریکی سیکورٹی فورسز نے ابیٹ آباد میں اُسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور اس واقعہ سے متعلق بائیس جون کو جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں