تحریک انصاف کا مستقبل

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مبصرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں ایسے قبائلی رہنما تحریکِ انصاف میں شمولیت کا اعلان کر سکتے ہیں جو اپنے علاقوں سے انتخابات میں کامیابی حاصل کرتے رہے ہیں

پاکستان تحریکِ انصاف کو اب تک صوبہ خیبر پختونخواہ اور پنجاب سے پذیرائی حاصل ہوئی ہے جبکہ سندھ اور بلوچستان میں جماعت کیا کاررکردگی دکھاتی ہے اس کا اندازہ عمران خان کے کراچی اور کوئٹہ کے دورے کے بعد ہی معلوم ہو سکےگا۔

خیبر پختونخواہ میں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں کی تحریکِ انصاف میں شمولیت سے ایسا تاثر مل رہا ہے کہ یہ جماعت آئندہ انتخابات میں بڑی کامیابی حاصل کر سکتی ہے لیکن ساتھ ہی جماعت کے کارکنوں میں یہ تشویش بھی پائی جاتی ہے کہ دیگر جماعتوں کے سیاستدانوں کی شمولیت سے تحریک انصاف اپنی انفرادیت کھو دے گی۔

خیبرپختونخوا کے ضلع نوشہرہ سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر آبپاشی پرویز خٹک اور ان کے ہمراہ دیگر رہنماؤں نے تحریکِ انصاف میں شمولیت اختیار کی جس پر مقامی سطح پر احتجاج بھی کیا گیا ہے۔

پرویز خٹک پاکستان پیپلز پارٹی کے اہم رہنما رہے ہیں اور صوبے کی سیاست میں ان کا خاندان بڑی اہمیت رکھتا ہے، ان کی تحریکِ انصاف میں شمولیت سے پیپلز پارٹی کو دھچکا لگا ہے۔

تحریکِ انصاف کے رہنما شوکت یوسفزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ عوامی نیشنل پارٹی کے مستعفی رہنما خواجہ محمد خان ہوتی چند روز میں تحریکِ انصاف میں شمولیت کا اعلان کریں گے۔

خواجہ محمد خان ہوتی ماضی میں پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر بھی رہ چکے ہیں جس کے بعد انھوں نے گزشتہ انتخاب میں اے این پی کے ٹکٹ پر ضلع مردان سے کامیابی حاصل کی تھی لیکن کچھ عرصہ پہلے قیادت سے اختلافات کی بنیاد پر انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی سے بھی استعفیٰ دے دیا تھا۔

شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے رہنما افتخار محمد جھگڑا، یاسین خلیل اور مسلم لیگ قائد اعظم کے رہنما محمود جان کی تحریکِ انصاف میں شمولیت انتہائی اہم ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ہزارہ ڈویژن سے اہم سیاسی خاندان ان کی جماعت میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں جن میں سابق وفاقی وزیر راجہ سکندر زمان کے بیٹے اور دیگر سیاسی رہنما شامل ہیں۔

شوکت یوسفزئی نے بتایا کہ خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع سے سابق وزیرِاعلیٰ سردار عنایت اللہ خان گنڈہ پور کے بیٹے اور رکن صوبائی اسمبلی اسرار اللہ گنڈہ پور ان کی جماعت میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں جبکہ ان کے ہمراہ ایم پی ایز کا ایک بڑا گروپ بھی تحریکِ انصاف میں شامل ہو رہا ہے جن کا نام وہ ابھی نہیں بتا سکتے۔

پنجاب میں تحریکِ انصاف کو بڑی کامیابی پیپلز پارٹی کے سابق رہنما شاہ محمود قریشی کی شمولیت سے حاصل ہوئی اس کے علاوہ چند دیگر اہم شخصیات کے نام بھی لیے جا رہے ہیں لیکن ابھی تک ان کی شمولیت کی واضح اطلاعات نہیں ہیں۔

پنجاب سے زیادہ تر پاکستان مسلم لیگ قائداعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے رہنما پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔

دوسری جانب بلوچستان میں اب تک تحریکِ انصاف کو وہ پذیرائی حاصل نہیں ہو سکی جو خیبر پختونخوا اور پنجاب سے ملی ہے۔

بلوچستان سے تحریکِ انصاف کے مقامی قائدین کا کہنا ہے کہ بڑی تعداد میں لوگوں نے ان سے رابطے کیے ہیں اور وہ عمران خان کے دورے کے دوران جماعت میں شمولیت کا اعلان کر سکتے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں ایسے قبائلی رہنما تحریکِ انصاف میں شمولیت کا اعلان کر سکتے ہیں جو اپنے علاقوں سے انتخابات میں کامیابی حاصل کرتے رہے ہیں۔

دوسری جانب سندھ سے ابھی تک کسی باثر سیاسی شخصیت نے تحریکِ انصاف میں شمولیت کا اعلان نہیں کیا ہے۔

تحریکِ انصاف پچیس دسمبر کو کراچی میں اپنی قوت کا مظاہرہ کرے گی اور توقع ہے کہ اس جلسے میں کچھ لوگ تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر سکتے ہیں۔

اسی بارے میں