’متنازع میمو ملک، پارلیمنٹ کے خلاف سازش‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ متنازع میمو ملک اور پارلیمنٹ کے خلاف سازش ہےاور صدر آصف علی زرداری کی علالت کو اس میمو سے جوڑنے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔

بدھ کو ایوان بالا یعنی سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ صدر بھی پارلیمنٹ کا حصہ ہیں اور چونکہ ملک میں اُن کی جان کو خطرہ ہے اس لیے صدر زرداری کو بیرون ملک علاج کے لیے جانے کا کہا گیا۔

’سازش کے تحت صدر کو ٹارگٹ بنا رہے ہیں‘

وزیراعظم گیلانی کا کہنا تھا کہ ملک میں صدر زرداری کی جان کو خطرہ ہونے کی وجہ سے وہ اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں زیر علاج اپنے والد حاکم علی زرداری کی بھی عیادت کرنے کے لیے نہیں گئے تھے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق وزیراعطم نے پارلیمنٹ کے کسی بھی رکن کا نام لیے بغیر کہا کہ اُن کے منصور اعجاز کے ساتھ اب بھی تعلقات ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ منصور اعجاز نہ تو پاکستانی ہے اور نہ ہی اُس کی کوئی ساکھ ہے اس لیے اُس کے بیان کو اہمیت نہیں دینی چاہیے۔

اُنہوں کے کہا کہ تمام سیاست دان حب الوطن ہیں اور کسی کو بھی حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں ہے۔

یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ اس معاملے کی شفاف چھان بین کے لیے صدر، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کی موجودگی میں حسین حقانی سے استعفیٰ لیا گیا۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اس میمو کو قومی سلامتی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کو بھجوا دیا گیا ہے اور اُن کی سفارشات کی روشنی میں اقدامات کیے جائیں گے۔

ممیو تنازع، آرمی چیف کے بیان پر مشاورت

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

امریکی افواج کی ہائی کمان کو لکھے گئے متنازع میمو سے متعلق سپریم کورٹ میں آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کا بیان جمع کروانے کے لیے فوج کی لیگل برانچ اور اٹارنی جنرل کے دفتر کے درمیان مشاورت جاری ہے۔

پاکستان مسلم لیگ نون کے صدر میاں نواز شریف کی طرف سے اس متنازع میمو کے خلاف دائر کی جانے والی اس درخواست پر سپریم کورٹ نے یکم دسمبر کو صدر آصف علی زرداری، وفاق، آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی، انٹر سروسز انٹیلیجنس یعنی آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل احمد شجاع پاشا، حسین حقانی اور پاکستانی نژاد امریکی شہری منصور اعجاز کو نوٹس جاری کیے تھے۔

ان افراد کو دو ہفتوں میں اپنے جواب داخل کروانے کے بارے میں کہا گیا تھا۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ایک اہلکار کے مطابق اس متنازع میمو سے متعلق آرمی چیف کا بیان وزارت دفاع کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کروائے جانے کا امکان ہے۔

اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ متنازع میمو سے متعلق انیس دسمبر کو آئندہ سماعت پر آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی اور وفاق کی جانب سے جوابات وزیر اعظم کی وساطت سے سپریم کورٹ میں جمع کروائے جائیں گے۔

اُنہوں نے کہا کہ اس میمو سے متعلق درخواستوں میں بھی کوئی ٹھوس شواہد عدالت میں پیش نہیں کیے گئے اور اُن کے بقول سپریم کورٹ کے حکم میں بھی جواب دینے یا نہ دینے کی گُنجائش بھی موجود ہے۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے میں اپنا موقف آئندہ سماعت پر بلیک اینڈ وائٹ میں عدالت کے رو برو پیش کریں گے۔

وزارتِ خارجہ نے بھی متنازع میمو سے متعلق اپنا جواب اٹارنی جنرل کے دفتر میں جمع کروا دیا ہے جس میں اس میمو کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عدالتی حکم کے تحت حسین حقانی پر ان درخواستوں پر حمتی فیصلہ ہونے تک بیرون ملک جانے پر پابندی عائد کر دی تھی

دریں اثناء امریکہ میں پاکستان کے سابق حسین حقانی کی طرف سے سپریم کورٹ کے یکم دسمبر کے حکم نامے کے خلاف دائر کی جانے والی درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی گئی ہے۔

اس درخواست میں عدالت سے اپنے حکم پر نظرثانی کرنے کے بارے میں کہا گیا ہے۔

عدالتی حکم کے تحت حسین حقانی پر ان درخواستوں پر حمتی فیصلہ ہونے تک بیرون ملک جانے پر پابندی عائد کر دی تھی۔ متنازع میمو سے متعلق دائر درخواستوں کی آئندہ سماعت اُنیس دسمبر کو ہوگی۔

واضح رہے کہ جمعرات کو سپریم کورٹ میں امریکی افواج کی اعلیٰ کمان کو لکھے گئے متنازع خط سے متعلق مسلم لیگ نواز کے سربراہ میاں نواز شریف کی جانب سے دائر کی جانے والی درخواستوں کی سماعت کے دوران عدالت نے اپنے حکم نامے میں صدر آصف علی زرداری سمیت اس درخواست میں بنائے جانے والے فریقین کو پندرہ روز میں جواب داخل کروانے اورایک تحقیقاتی کمیشن بنانے کا حکم دیا تھا۔

اسی بارے میں