’وطن واپسی کا فیصلہ ڈاکٹر کریں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ صدر زرداری پاکستان یا دبئی میں آرام کریں گے

صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کے ترجمان کے مطابق صدر ہسپتال سے ڈسچارج یا فارغ ہونے کے بعد دبئی میں اپنےگھر منتقل ہو گئے ہیں۔

بدھ کی شب جاری کردہ ایک بیان میں ایوان صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے صدر کے گھر منتقل ہونے کی تصدیق کی ہے۔

علاوہ ازیں صدارتی ترجمان نے بی بی سی اردو کو مختصر پیغام میں بتایا ہے کہ فی الحال صدر کی پاکستان واپسی کا پروگرام نہیں بن سکا ہے اور معالجین کی ہدایت پر ہی سفر کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

اس سے قبل بدھ کو ہی ان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ صدر کو کل یعنی جمعرات کو ہسپتال سے فارغ کر دیا جائے گا اور ڈاکٹر کی تجویز کے مطابق گھر پر آرام کریں گے اور اس دوران عارضہ قلب سے متعلق تجویز کردہ تمام ادویات کا استعمال جاری رکھیں گے۔

تاہم اس بیان میں یہ واضح نہیں تھا کہ آیا صدر زرداری دبئی میں رکیں گے یا پاکستان واپس آئیں گے۔

اسی بیان میں یہ بھی بتایا گیا کہ ’دبئی کے امریکن ہسپتال میں زیر علاج صدر زرداری کے معالج کے مطابق تمام طبی معائنوں کے نتائج معمول کے مطابق یا نارمل آئے ہیں۔‘

امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق بدھ کو جاری ہونے والے بیان میں صدر کی طویل علالت کے بارے میں نہیں بتایا گیا تاہم ان کے ایک قریبی ساتھی کا کہنا ہے کہ صدر ’منی سٹروک یا فالج‘ کا شکار ہوئے تھے۔

صدر زرداری کی بیماری اور اچانک بیرونِ ملک روانگی نے پاکستان میں بہت سی افواہوں کو جنم دیا بلکہ یہاں تک کہا گیا کہ چھپن سالہ زرداری کی اقتدار پر گرفت کمزور ہو رہی ہے تاہم پاکستان کے حکام اس کی تردید کرتے ہیں۔

اے پی کے مطابق ایوانِ صدر نے دبئی کے امریکن ہسپتال کے لیٹر ہیڈ پر ایک بیان جاری کیا ہے جس میں صدر زرداری کی صحت کے بارے میں پوری تفصیلات بتائی گئی ہیں۔

اس لیٹر ہیڈ پر دبئی کے امریکن ہسپتال میں کام کرنے والے ایک ڈاکٹر کے دستخط بھی ہیں جس کے مطابق صدر زرداری کے بائیں بازو میں تکلیف تھی جس کی وجہ سے وہ چند لمحوں کے لیے غنودگی کا شکار ہوئے تھے۔

اس بیان میں صدر کی بیماری کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا تاہم یہ کہا گیا ہے کہ صدر عارضہ قلب کے حوالے سے تجویز کردہ ادویات باقاعدگی سے استعمال کر رہے ہیں۔

بیان کے مطابق دبئی کے ڈاکڑوں نے صدر زرداری کے مختلف ٹیسٹ کیے جس میں ایم آر آئی کے ذریعے ان کے دماغ کا ٹیسٹ بھی شامل ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کو چھ دسمبر کو ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔

صدر آصف علی زررای کو رواں ہفتے متنازع میمو کے حوالے سے پاکستان کی سپریم کورٹ میں اپنا بیان بھی داخل کروانا ہے۔

اسی بارے میں