کراچی: ’مدرسے پر چھاپہ، ایک سازش ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

کراچی میں پیر کی شب مدرسہ منبع العلوم پر پولیس کے چھاپےاور وہاں سے زنجیروں میں جکڑے افراد کی بازیابی کے واقعے کو جمعیت علمائےاسلام (ف) کراچی کےامیر قاری محمد عثمان نے مدارس کے خلاف سازش قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مدرسےمیں ترکِ منشیات کے لیے ایک شعبہ قائم تھا جو منشیات کے عادی افراد کا علاج کرتا تھا۔

مدرسے موجود تمام افراد کو ان کےلواحقین خود لاتےتھےاور انتظامیہ کو تالےاور زنجیریں بھی فراہم کرتے تھے تاکہ مریض فرار نہ ہو سکیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ مدرسے میں یہ شعبہ کس کی اجازت سے قائم کیاگیا تھا کیونکہ مدرسے کےمنتظم مفتی داؤد سے ان کا کوئی رابطہ نہیں ہو سکا ہے۔

خیال رہے کہ پولیس نے کہا تھا کہ مدرسے سے بازیاب کرائے جانے والے افراد کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جاتا تھا۔

قاری عثمان کے مطابق وہ سمجھتے ہیں کہ منشیات کےعادی افراد کی اصلاح کے لیے انہیں نماز کا پابند کیا جاتا تھا اور انہیں قرآن بھی پڑھایا جاتا تھا۔

ان کے مطابق یہ تمام افراد مدرسے میں تعلیم حاصل کرتے تھے جبکہ سو کے قریب افراد علاج کے بعد صحت یاب ہو کر اپنےگھروں کو جا چکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ محلے کے لوگوں کے مطابق منشیات کےعادی افراد کو دوا بھی دی جاتی تھی مگراس کی نوعیت معلوم نہیں ہو سکی ہے۔

نامہ نگار حسن کاظمی کا کہنا ہے کہ قاری عثمان نےوضاحت کی کہ وہ لوگوں کو زنجیروں سے باندھ کر رکھنےاور تشدد کی حمایت نہیں کر رہے تاہم یہ کام حکومت کا ہے کہ وہ منشیات کے عادی افراد کے علاج کے لیے اقدامات کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے کی پوری تفتیش ہونی چاہیے کیونکہ بچوں کو زنجیریں والدین کی مرضی سے پہنائی گئی ہیں اور اگر یہ ظلم ہے تو پھر والدین بھی اس ظلم کے ذمہ دار ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

انہوں نے کہا کہ وفاق المدارس العربیہ میں نہ تو اس طرح کی تعلیم دی جاتی ہے اور نہ ہی اس مدرسےمیں ایسا ہوتا تھا کیونکہ مدرسہ منبع العلوم کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

قاری عثمان نے بتایا کہ اس علاقے کے لوگ مشتعل ہیں کیونکہ ایک اچھے فلاحی مرکز کے خلاف اس طرح پروپیگینڈا کیا جا رہا ہے۔

جمعیت علمائےاسلام کے رہنماء نے کہا کہ پولیس چھاپے میں مدرسے کوئی اسلحہ برآمد نہیں ہوا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ میڈیا رپورٹس کے بعد انہوں نے بدھ کو علاقے کا دورہ کیا اور وہاں کے لوگوں سے اس بارے میں معلومات حاصل کیں۔

انہوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ مدارس کے خلاف ہونے والی اس سازش کو بے نقاب کیا جائے اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو وہ احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

اسی بارے میں