تمام پالیسی فیصلے پارلیمان کرے گی:گیلانی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان کی خود مختاری، مفادات اور سرحدوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، گیلانی

پاکستان کے وزیرِاعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ تمام پالیسی فیصلے پارلیمان کرے گی کیونکہ قومی پالیسیوں کی تشکیل کا اختیار صرف پارلیمان کے پاس ہے۔

پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق وزیرِ اعظم گیلانی نے یہ بات جمعرات کو اسلام آباد میں اتحادی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکانِ پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

وزیرِاعظم نے ارکانِ پارلیمان کو نیٹو کی جانب سے پاکستان کی سرحدوں پر پیش آنے والے واقعہ کے بعد حکومت کی جانب سے کیے جانے والے فیصلوں پر اعتماد میں لیا۔

اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی، ایم کیوایم کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار، مسلم لیگ (ق) کے رہنما ریاض حسین پیرزادہ، فاٹا پارلیمانی گروپ کے نمائندگان اور دیگر اتحادی جماعتوں کے ارکان پارلیمان نے اجلاس میں شرکت کی۔

دریں اثناء وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان کی خود مختاری، مفادات اور سرحدوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر قیمت پر اپنا دفاع کرے گا، نیٹو حملہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی تھی اور یہ پاکستان کی خود مختاری اور سلامتی پر حملہ تھا جو کسی صورت قابل برداشت نہیں تھا۔

وزیرِ اعظم کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں معاونت کے لیے اتحادی افواج کے ساتھ کچھ’ریڈ لائنز‘طے تھیں جن میں پاکستان کی خود مختاری اور سرحدوں کا احترام اور باہمی مفادات کا تحفظ شامل تھا۔

اسی بارے میں