آزادیِ صحافت ملکی استحکام کے لیے ناگزیر

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

بلوچستان اسمبلی کے اسپیکر محمد اسلم بھوتانی نے کہا ہے کہ آزادی صحافت کو یقینی بنائے بغیر ملکی سلامتی اور جمہوری استحکام ممکن نہیں ہے۔ بلوچستان میں مسلح گروہ اور سرکاری ادارے اپنی جنگ میں صحافیوں کو شامل نہ کریں بلکہ صحافی برادری کے تحفظ اور اظہار رائے کی آزادی کی راہ ہموار کرنے کو یقینی بنائیں۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کےمطابق صحافیوں پر حملے اور آزادی صحافت کے عنوان سے ایک روزہ ورکشاپ جمعہ کو کوئٹہ میں منعقد ہوئی۔ جس میں صوبے کے مختلف اضلاع چمن، نوشکی، خضدار ، پنجگور اور کوئٹہ کے صحافیوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اس موقع پر سیفما کے مرکزی سیکرٹری جنرل امتیاز عالم ، سیفما بلوچستان کے نائب شہزادہ ذوالفقار ، بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر محمد عیسٰی ترین کوئٹہ پریس کلب کے عہدیدار اخونزادہ جلال نورزئی اور سنیئرصحافیوں نے ان کو درپیش خطرات اور مسائل پر اظہار خیال کیا۔

اسپیکر بلوچستان اسمبلی محمد اسلم بھوتانی نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں جمہوریت کو پنپنے نہیں دیا گیا کبھی جمہوری اداروں کو پروان نہیں چڑھایا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج یہاں میڈیا سے وابستہ افراد بھی خود کو غیر محفوظ تصور کررہے ہیں اور یہ سمجھ رہے ہیں کہ ان کے اظہار آزادی کے حق پر پابندیاں عائد کی جارہی ہیں پورے ملک میں حالات انتہائی تشویشناک ہونگے تاہم اس کی نسبت بلوچستان میں صحافیوں کی مشکلات کچھ زیادہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اس کا بخوبی ادراک اور احساس ہے کہ بلوچستان کے صحافی انتہائی نا مساعد حالات میں اپنی صحافتی ذمہ داریاں غیر جانبداری اور ایمانداری سے نبھا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہاں کے صحافی نہ صرف عدم تحفظ کا شکار ہیں بلکہ سرکاری اداروں اور مسلح جدوجہد کرنے والے گروہوں کی جانب سے ان پر دباؤ ڈالا جاتا ہے جوکہ غلط ہے اورہم ان سے بھی اپیل کریں گے کہ وہ صحافی برادری کو خوف میں مبتلا کرنے کی بجائے اظہار رائے کی راہ کو ہموار کرنے کو یقینی بنائیں، آزادی صحافت کو یقینی بنائے بغیر جموری استحکام ممکن نہیں ہے۔

اسپیکر صوبائی اسمبلی نے کہا کہ حکومت بلوچستان اپنے وسائل میں رہتے ہوئے ہر ممکن اقدامات کررہی ہے صحافیوں کے لئے ویلفیئر فنڈ بھی قائم کیا گیا اس کے علاوہ اگر صحافیوں کو کسی قسم کی مشکلات درپیش ہیں تو انہیں بھی دور کرنے میں اپنا ہر ممکن کردار ادا کریں گے۔

انہوں نے کہا وہ صحافی برادری سے بھی توقع کرتے ہیں کہ وہ غیر جانبدار رہتے ہوئے صرف حکومت کے منفی پہلو کو منظر عام پر لانے میں مصروف نہ رہے۔

اس موقع پر سیفما کے مرکزی سیکرٹری جنرل امتیاز عالم نے بلوچستان میں صحافیوں کو درپیش مشکلات اور حکومتی سطح پر کسی قسم کے اقدامات نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ آزادی صحافت کو تحفظ فراہم کئے بغیر ملکی سلامتی جمہوری استحکام ممکن نہیں۔ بلوچستان کی صورتحال انتہائی گھمبیر و مشکل ہے یہاں صحافیوں کو ہر طرف سے دباو کا سامنا ہے اب تک بیس صحافی مارے جا چکے ہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے آج تک کسی کے قتل کی تحقیقات نہیں ہوئیں اور نہ ہی ملزمان گرفتار کئے جاسکے ہیں۔

حکومتی سطح پر ان صحافیوں کےلئے کسی قسم کے مالی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں کیا گیا۔ امتیاز عالم نے کہا کہ سرکاری ادارے ہوں یا اپنے حقوق کےلئے مسلح جدوجہد کرنے والے سب کو آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اظہار رائے کی آزادی کا احترام کرنا ہوگا اور حکومت پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ صحافیوں کے تحفظ کےلئے ٹھوس اقدامات کرے ۔